گھوٹکی (انڈس ٹربیون) – ضلع گھوٹکی کے علاقے میرپور ماتھیلو میں کلہوڑا پھاٹک کے قریب جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ایک افسوسناک ریلوے حادثہ پیش آیا، جہاں مال گاڑی کی چھ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ حادثے کے باعث اپ اور ڈاؤن دونوں ریلوے ٹریکس شدید متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں ریلوے نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔

ریلوے حکام کے مطابق حادثہ رات تقریباً دو بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب مال گاڑی میرپور ماتھیلو کے قریب پہنچ رہی تھی۔ اچانک چھ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں جس سے نہ صرف ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچا بلکہ ٹریفک کی روانی مکمل طور پر معطل ہو گئی۔
ملک بھر کی اہم ٹرینیں متاثر
ریلوے ٹریک بند ہونے کے باعث ملک کے مختلف شہروں سے گزرنے والی اہم ٹرینیں راستے میں روک دی گئیں۔ ان میں جعفر ایکسپریس (راولپنڈی تا کوئٹہ)، ملت ایکسپریس، گرین لائن، عوام ایکسپریس، خوشحال خان خٹک ایکسپریس سمیت دیگر مسافر ٹرینیں شامل ہیں۔ ٹرینیں مختلف اسٹیشنز اور کھلے میدانوں میں کھڑی ہیں جہاں نہ پانی دستیاب ہے نہ خوراک، اور نہ ہی ٹھنڈا ماحول۔
ہزاروں مسافر بے یار و مددگار
حادثے کے نتیجے میں راستے میں پھنسے ہزاروں مسافر شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ مسافروں نے شکایت کی ہے کہ انہیں کئی گھنٹوں سے ٹرینوں میں بند رکھا گیا ہے، جبکہ ریلوے حکام کی جانب سے کسی قسم کی سہولت یا معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ شدید گرمی میں بزرگ، خواتین، بیمار افراد اور بچے خاص طور پر تکلیف میں مبتلا ہیں۔ کئی مسافروں نے کہا ہے کہ نہ انہیں پانی دیا گیا ہے اور نہ کھانے کا کوئی بندوبست ہے۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ ریلوے حکام سے رابطے کی کوشش کے باوجود انہیں کچھ بتایا نہیں جا رہا کہ ٹریک کب بحال ہوگا اور ٹرینیں کب روانہ ہوں گی۔
بحالی کا کام جاری، حکام کی وضاحت
ڈی سی او ریلوے سکھر، محسن سیال نے “دی انڈس ٹربیون” سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ مال گاڑی کی بوگیاں پٹڑی سے اترنے کے باعث ریلوے آپریشن متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریلوے کا امدادی عملہ موقع پر موجود ہے اور بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہماری کوشش ہے کہ ایک گھنٹے کے اندر ٹریک کو مکمل بحال کر دیا جائے، جس کے بعد تمام متاثرہ ٹرینوں کو ان کی منزل کی طرف روانہ کر دیا جائے گا۔‘‘
ریلوے انتظامیہ پر سوالیہ نشان
حادثے کے بعد ریلوے انتظامیہ کی نااہلی ایک بار پھر سامنے آ گئی ہے۔ نہ صرف بحالی میں تاخیر ہو رہی ہے بلکہ مسافروں کو کوئی متبادل سہولت یا معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ یہ صورتحال ریلوے نظام کی ناقص منصوبہ بندی اور انتظامی ناکامی کی واضح مثال ہے، جس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔