خیرپور: پولس کا ڈرون حملہ، 2 افراد ہلاک، 3 ایس ایچ اوز معطل، ایک گرفتار

خیرپور (انڈس ٹربیون) خیرپور کے نواحی گاؤں سعید خان لاکو میں ایک گھر پر مبینہ ڈرون حملے کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک اور ایک معصوم بچی سمیت 2 افراد زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ واقعے کے بعد پولیس کے تین تھانوں کے ایس ایچ اوز کو معطل اور ایک افسر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ علی الصبح پیش آیا جب ایک رہائشی گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں صدرالدین ولد نظام دھاریجو اور ضامن علی ولد شہباز دھاریجو شامل ہیں، زخمیوں میں بچی ولیشا اور عبدالسمیع دھاریجو شامل ہیں، جنہیں طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کیا گیا۔

واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور مقامی افراد میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ متاثرہ خاندان کے افراد کا الزام ہے کہ کندھرا اور شاہ لطیف تھانوں کی حدود میں پولیس نے مبینہ طور پر نجی افراد کے ساتھ مل کر سوئے ہوئے لوگوں پر ڈرون حملہ کیا۔

دوسری جانب سکھر پولیس کے مطابق اس واقعے کے بعد تین تھانوں کے ایس ایچ اوز—صالح پٹ کے علاؤالدین پھلپوٹو، کندھرا کے شوکت آرائیں اور پٹنی کے ایس ایچ او عمران بھیو کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ ڈرون چلانے کے الزام میں ایس ایچ او شوکت آرائیں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کی تصدیق ایس ایس پی سکھر اظہر مغل نے کی ہے، جن کا کہنا ہے کہ گرفتار افسر کو مزید کارروائی کے لیے خیرپور پولیس کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

ادھر وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی سکھر سے رپورٹ طلب کی ہے اور شفاف تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی غفلت یا غیر قانونی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

واقعے کے خلاف مقتولین کے ورثا نے لاشیں ایس ایس پی خیرپور کے دفتر کے سامنے رکھ کر کئی گھنٹوں تک شدید گرمی میں احتجاج کیا، جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ بعد ازاں ایس ایس پی خیرپور امیر سعود مگسی نے مظاہرین سے مذاکرات کیے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔

حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور حتمی حقائق سامنے آنے کا انتظار ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں