بلوچستان: مائننگ سائٹ پر حملہ، ترک شہری سمیت 10 افراد ہلاک

چاغی(ویب ڈیسک) بلوچستان کے ضلع چاغی کی تحصیل دالبندین کے نواحی علاقے دریگون میں مائننگ کمپنی نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کی سائٹ پر مسلح افراد کے حملے میں ایک ترک شہری سمیت کم از کم 10 افراد ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہو گئے۔

مقامی حکام کے مطابق بدھ کی شام درجنوں مسلح افراد نے سائٹ کو مختلف اطراف سے گھیر کر جدید اسلحے، راکٹ اور بموں سے حملہ کیا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں اور نجی سکیورٹی گارڈز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں تین سکیورٹی اہلکار بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق دالبندین کے پرنس فہد ہسپتال میں 10 لاشیں اور آٹھ زخمی افراد منتقل کیے گئے، جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد کوئٹہ بھیج دیا گیا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بعض لاشیں جھلسی ہوئی حالت میں تھیں جبکہ دیگر افراد گولیوں اور دھماکوں سے متاثر ہوئے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک ترک شہری بھی شامل ہے جو کمپنی میں بطور ڈرلر کام کر رہا تھا، جبکہ دیگر افراد کا تعلق سندھ اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے بتایا جاتا ہے۔

ایک انتظامی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عالمی خبر رساں ادارے بی بی سی کو بتایا کہ اطلاعات ہیں کہ حملہ آور کچھ ملازمین کو اپنے ساتھ بھی لے گئے ہیں، تاہم اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور جاتے ہوئے کمپنی کی گاڑیاں بھی ساتھ لے گئے اور ڈرلنگ مشینری، جنریٹرز سمیت دیگر آلات کو آگ لگا دی۔

واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو کنٹرول میں لے لیا ہے۔

اگرچہ اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی، تاہم ماضی میں ضلع چاغی میں ہونے والے اسی نوعیت کے حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔

یاد رہے کہ اگرچہ ضلع چاغی میں ایسے حملے ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں، تاہم شورش سے زیادہ متاثرہ علاقوں کے مقابلے میں یہاں حملوں کی تعداد نسبتاً کم رہی ہے۔ گزشتہ سال چاغی کے علاقے نوکنڈی میں سکیورٹی فورسز کے ہیڈکوارٹر پر بھی ایک بڑا حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں