کوئٹہ(ویب ڈیسک) بلوچستان کے ضلع خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر سومرو کو نامعلوم مسلح افراد نے مبینہ طور پر تین دیگر افراد سمیت اغوا کر لیا۔
عالمی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق ایک سینیئر حکومتی عہدیدار نے اتوار کی شب ڈپٹی کمشنر کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ منیر سومرو کے ہمراہ سفر کرنے والے تین دیگر افراد کو بھی مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر منیر سومرو کوئٹہ سے خاران جا رہے تھے۔ وہ ضلع نوشکی سے گزرنے کے بعد خاران کی حدود میں داخل ہوئے، جہاں ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
حکام نے بتایا کہ رابطہ منقطع ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر اور ان کے ساتھیوں سے موبائل فون کے ذریعے متعدد مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم تمام فون مسلسل بند ملے۔
بعد ازاں بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈپٹی کمشنر ایک نجی گاڑی میں تین دیگر افراد کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، جن میں ان کا ذاتی محافظ بھی شامل تھا۔ عہدیدار کے مطابق خاران کی حدود میں داخل ہونے کے بعد نامعلوم مسلح افراد نے انہیں اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر اور ان کے ساتھ اغوا ہونے والے دیگر افراد کی بحفاظت بازیابی کے لیے مختلف اداروں کی جانب سے کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔
تاحال کسی تنظیم یا گروہ نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
بلوچستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنانے اور اغوا کرنے کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ رواں سال تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور ایک لیکچرر کے اغوا کے واقعات بھی سامنے آئے۔
2025 میں سوراب کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی ایک حملے میں جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ کیچ کے اسسٹنٹ کمشنر تمپ اور زیارت کے اسسٹنٹ کمشنر کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔ اسی سال نوشکی پولیس کے ایک ڈی ایس پی کو اغوا کے بعد قتل کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔
اس سے قبل 2024 میں پنجگور کے ڈپٹی کمشنر ذاکر بلوچ بھی نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
خاران بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور صوبے کے ان علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں طویل عرصے سے شورش اور امن و امان کے مسائل درپیش رہے ہیں۔