شکارپور(رپورٹ: بھاگ چند) شکارپور کے رستم چوک پر موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے فائرنگ کرکے گڑھی یاسین تھانہ کے سابق ایس ایچ او نہال بروہی کو قتل کر دیا اور ان کا سرکاری اسلحہ لے کر فرار ہوگئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ پولیس نے لاش سول اسپتال منتقل کر دی۔
مقتول نہال بروہی، جو گڑھی یاسین تھانے میں ایس ایچ او تعینات رہ چکے تھے، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ شکارپور میں پیشی کے بعد واپس جا رہے تھے کہ رستم چوک کے قریب ان پر حملہ کیا گیا۔
مقتول کے والد محمد عمر بروہی نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے کے قتل میں مبینہ طور پر اے ایس آئی ممتاز سومرو اور مارفانی برادری سے تعلق رکھنے والے جرائم پیشہ افراد ملوث ہیں۔
محمد عمر بروہی کے مطابق، نہال بروہی کی گڑھی یاسین میں تعیناتی کے دوران دن دہاڑے ایک واردات ہوئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ واردات کرنے والے ملزمان کا تعاقب کرنے کے دوران مقابلے میں ایک مبینہ ڈاکو مارا گیا تھا، جس کے بعد مقتول کے خلاف مارے جانے والے شخص کی ورثا خواتین نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔
والد نے دعویٰ کیا کہ ان کے بیٹے نے زندگی میں انہیں بتایا تھا کہ اس وقت گڑھی یاسین تھانے میں تعینات اے ایس آئی اور موجودہ ایس ایچ او سلطان کوٹ ممتاز سومرو، مبینہ جرائم پیشہ افراد کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق، نہال بروہی کو اسی تنازعے کے تناظر میں نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایس ایچ او نیو فوجداری خلیل رند نے دعویٰ کیا ہے کہ مقتول نے متعدد جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں کی تھیں اور انہیں مبینہ طور پر ان کے ساتھیوں کی جانب سے دھمکیاں ملتی رہی تھیں۔ ان کے مطابق نہال بروہی کو ٹارگٹ کرکے قتل کیا گیا ہے، ملزمان کے بارے میں معلومات حاصل کر لی گئی ہیں اور انہیں جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ادھر بیٹے کے قتل کی خبر سننے کے بعد مقتول کے والد محمد عمر بروہی کو دل کا دورہ پڑا، جس کے باعث انہیں تشویش ناک حالت میں شکارپور سے سکھر منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔