نئے صوبے یا انتظامی یونٹس پر بحث سندھ اور ملک تقسیم کرنے کی سازش، فوجی ترجمان پریس کانفرنس کر کے بحث ختم کریں: سندھ ایکشن کمیٹی

جامشورو (انڈس ٹربیون) سندھ ایکشن کمیٹی کی سندھ مشاورتی کونسل کے اجلاس میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق جاری بحث کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ وفاقی وزیر داخلہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر پریس کانفرنس کرکے اس بحث کو ختم کرنے کی وضاحت کریں۔

سندھ ایکشن کمیٹی کا اجلاس کنوینر سید زین شاہ کی صدارت جی ایم سید ایڈیفس جامشورو میں منعقد ہوا، جس میں سندھ کی سیاسی، معاشی، انتظامی اور آبی صورتحال سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے اعلامیے کے مطابق شرکاء نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کے خلاف سندھ اسمبلی پہلے بھی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے، تاہم حالیہ بحث کو پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان سیاسی مفاہمت کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ صرف قرارداد منظور کرنا کافی نہیں، جبکہ قرارداد پیش کرنے والے کی جانب سے نئے صوبوں کی مخالفت اور انتظامی یونٹس پر بات چیت کی گنجائش کے بیان کو بھی دوہرا معیار قرار دیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان تاریخی وطنوں پر مشتمل وفاق ہے اور 1940ء اور 1943ء کی قراردادوں اور معاہدوں کے تناظر میں اس کی تشکیل ہوئی، اس لیے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث بند کی جائے۔

سندھ ایکشن کمیٹی نے مقامی حکومتوں کے نظام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جانے کی مخالفت نہیں کی جائے گی، تاہم بلدیاتی ادارے صوبائی حکومتوں کے ماتحت ہونے چاہئیں۔ اجلاس کے مطابق بلدیاتی اداروں کے مالی اور انتظامی اختیارات میں وفاقی حکومت کی مداخلت صوبائی خودمختاری کے خلاف تصور کی جائے گی۔

اجلاس میں جلالپور کینال اور چولستان کو آباد کرنے کے لیے دریائے چناب پر نئے ڈیموں کی منصوبہ بندی اور سندھ کے پانی سے متعلق منصوبوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ دریائے سندھ کے نظام پر بنائے جانے والے غیر قانونی کینال اور ڈیم منصوبے روکے جائیں۔ اعلامیے میں صدر آصف علی زرداری سے منسوب چھ کینالوں کی منظوری کے منصوبے کو بھی مسترد کیا گیا۔

اجلاس میں گرین پاکستان منصوبے کے تحت سندھ کی لاکھوں ایکڑ زمین مختلف کمپنیوں کو الاٹ کیے جانے پر بھی اعتراض کیا گیا اور زمینوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرکے انہیں واپس کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ سندھ کے معدنی، ساحلی، کوئلے اور آبی وسائل پر سندھ کا اختیار ہونا چاہیے۔

سیاسی سرگرمیوں، جلسوں، جلوسوں، تحریر و تقریر پر پابندیوں اور سندھ کے مختلف شہروں میں پرامن مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائیوں، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی بھی مذمت کی گئی۔ اجلاس میں سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات ختم کرنے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اعلامیے میں عمران خان، ماہ رنگ بلوچ، علی وزیر، مخدوم شاہ محمود قریشی، ایڈووکیٹ حادی احمد چٹھہ، ایمان مزاری اور ارباب بھیل سمیت دیگر سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

سندھ میں میرٹ کی صورتحال اور پبلک سروس کمیشن کے حوالے سے بھی اجلاس میں تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے تعلیمی اداروں میں میرٹ کی بحالی، رشوت اور سیاسی بنیادوں پر ملازمتوں کے خاتمے اور اہلیت کی بنیاد پر تقرریوں کا مطالبہ کیا۔

اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اگر نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس سے متعلق کوئی غیر قانونی فیصلہ کیا گیا تو سندھ مزاحمت کرے گا اور ایسے فیصلے کے خلاف سندھ سے پنجاب جانے والے مواصلاتی راستوں کو بند کیا جائے گا۔

سندھ ایکشن کمیٹی نے 1991ء کے پانی کے معاہدے کے تحت سندھ کو اس کے حصے کا پانی فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ زرعی ضروریات کے ساتھ سندھ ڈیلٹا کے تحفظ کے لیے بھی پانی کی فراہمی ضروری ہے۔

اجلاس میں پریس اینڈ الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے ذریعے میڈیا کی آواز دبانے کی مبینہ کوششوں کی مخالفت بھی دہرائی گئی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ سندھ کی وحدت کے معاملے پر اردو میڈیا کی خاموشی پر بھی تحفظات ہیں، تاہم سندھ میں اردو اور پنجابی بولنے والے ان افراد کو سراہا گیا جنہوں نے سندھ کی وحدت کے حق میں اظہار کیا۔ اجلاس نے لسانی سیاست کو مسترد کرنے کا اعلان کیا۔

اعلامیے کے مطابق سندھ میں امن و امان کی صورتحال، تعلیمی نظام، صحت، میرٹ اور صاف پانی کی فراہمی کو درپیش مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور ان مسائل کو صوبائی حکومت کی کارکردگی سے جوڑا گیا۔

اجلاس میں ڈاکٹر صفدر عباسی، سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید ظفر شاہ، ڈاکٹر نیاز کالانی، مسرور شاہ، بخشل تھلو، نواز خان زنئور، انجینئر عبدالرزاق لاکو، مظهر راہوجو، فتاح چنا، اقبال احمد، حافظ سکندر تنيو، سید لال شاہ، سید ندیم شاہ، عبدالغفار میر جت، تاج مری، ڈاکٹر بدر چنا، اعجاز منگی، نواب زبیر ٹالپر، ڈاکٹر میر عالم مری، مولانا ایاز قمی، ایڈووکیٹ محب آزاد، کے بی لغاری، فیصل مغل، نازش فاطمہ، احمد نواز انقلابی، عبدالمومن میمن، عمیر علی جٹ، دستگیر بھٹی، ذبیح اللہ مستوئی، سینئر صحافی نعمت کھوڑو اور دیگر مختلف جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں