علی حسن زرداری نے مجھ پر قاتلانہ حملہ کروایا، مشتاق سرکی نے سودیبازی کی: حیدر قادری

کراچی (انڈس ٹربیون) سندھ کے معروف اداکار حیدر قادری نے الزام عائد کیا ہے کہ صوبائی وزیر جیل خانہ جات سندھ علی حسن زرداری اور ان کے بھتیجے عاشق زرداری نے ان پر حملہ کروایا، جبکہ صحافی مشتاق سرکی نے مبینہ طور پر ان کے مقدمے پر سودیبازی کی۔

حیدر قادری نے اپنے وکیل مجیب مشوری اور سینئر صحافی منظور سولنگی کے ہمراہ جاری کیے گئے ویڈیو بیان میں کہا کہ تقریباً پانچ ہفتے قبل کراچی کے علاقے سچل گوٹھ میں ان پر حملہ کیا گیا، جس میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ان کے مطابق حملے سے ایک روز قبل انہوں نے صحافی منصور مغیری کے پوڈکاسٹ میں صوبائی وزیر علی حسن زرداری کی پیروڈی کی تھی، جس کے بعد علی حسن زرداری نے انہیں فون کیا اور کہا کہ پیروڈی کے ذریعے ان کی ذاتیات پر حملہ کیا گیا ہے۔

حیدر قادری کا کہنا ہے کہ انہوں نے علی حسن زرداری کو وضاحت دی کہ ان کا مقصد کسی کی تضحیک یا ذاتیات پر حملہ کرنا نہیں تھا اور وہ ایک فنکار کی حیثیت سے سیاسی شخصیات کی پیروڈی کرتے ہیں، تاہم ان کے مطابق صوبائی وزیر نے ان کی وضاحت قبول نہیں کی اور سخت لہجے میں بات کی۔

اداکار کے مطابق اگلے روز سچل گوٹھ کے علاقے چیپل میں واقع ایک ہوٹل کے لان میں متعدد افراد نے ان پر حملہ کیا اور تشدد کیا، تاہم لوگوں کے جمع ہونے پر حملہ آور فرار ہوگئے۔

حیدر قادری نے بتایا کہ وہ مقدمہ درج کرانے متعلقہ تھانے گئے، تاہم پولیس نے مبینہ طور پر ٹال مٹول سے کام لیا۔ بعدازاں انہوں نے اپنی کوششوں سے حملے کے وقت کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی اور اسے پولیس کے سامنے پیش کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی۔

ان کے مطابق انہوں نے علی حسن زرداری کے خلاف بھی کارروائی کی درخواست کی، تاہم پولیس نے صوبائی وزیر کا نام بطور ملزم شامل کرنے سے انکار کردیا۔ حیدر قادری کا کہنا ہے کہ ان کے پاس علی حسن زرداری کی جانب سے کی گئی مبینہ دھمکی آمیز فون کال کے علاوہ کسی اور شخص سے دشمنی کی کوئی وجہ نہیں تھی۔

حیدر قادری نے مزید الزام عائد کیا کہ سول سوسائٹی کے دیگر افراد کے ہمراہ صحافی مشتاق سرکی بھی تھانے پہنچے اور انہوں نے علی حسن زرداری کا نام مقدمے میں شامل نہ کرنے کا مشورہ دیا۔

ان کے مطابق بعدازاں انہوں نے اپنی درخواست سے علی حسن زرداری کا نام نکال کر براہ راست حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔ حیدر قادری کا دعویٰ ہے کہ اس موقع پر مشتاق سرکی نے ان سے مبینہ طور پر کہا کہ اگر جرمانہ ملے تو انہیں بھی حصہ دیا جائے، جس پر وہ حیران رہ گئے۔

حیدر قادری کے مطابق چند روز بعد مشتاق سرکی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے دعویٰ کیا کہ ان پر حملہ چچا اور بھتیجے نے کروایا ہے اور بعدازاں انہیں فون کرکے بتایا کہ حملہ آوروں تک پہنچ گئے ہیں۔ حیدر قادری کا کہنا ہے کہ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ علی حسن زرداری اور عاشق زرداری نے مبینہ طور پر 20 لاکھ روپے دے کر حملہ کروایا۔

ان کے مطابق مشتاق سرکی نے انہیں اپنے گھر آنے اور معاملہ حل کرنے کی بات کی، جس پر وہ سہراب سومرو کے ہمراہ ان کے گھر پہنچے، جہاں معروف صنعتکار اشرف جتوئی اور عاشق زرداری بھی موجود تھے۔

حیدر قادری کے بقول عاشق زرداری نے ملاقات کے دوران ان سے کہا کہ انہیں غلط فہمی ہوئی ہے اور اگر ایک سو سال میں بھی ان کے خلاف کوئی ثبوت سامنے آیا تو وہ جرمانہ ادا کریں گے۔ حیدر قادری کا کہنا ہے کہ انہوں نے جواب دیا کہ اگر بات کرنی ہے تو ان کے پاس آکر کی جائے۔

حیدر قادری کے مطابق اس ملاقات کے بعد کئی روز گزرنے کے باوجود علی حسن زرداری اور عاشق زرداری کی جانب سے کوئی مزید رابطہ نہیں کیا گیا۔ بعدازاں انہوں نے مشتاق سرکی کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی گئی اور بعد میں حذف کی گئی پوسٹ کا اسکرین شاٹ اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر شیئر کیا، جو مبینہ طور پر وائرل ہوگیا۔

اداکار کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد مشتاق سرکی نے انہیں فون کرکے پوسٹ کا اسکرین شاٹ ہٹانے کا کہا اور مبینہ طور پر دھمکی دی کہ بصورت دیگر وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔

حیدر قادری نے کہا کہ ان کے پاس اپنے الزامات کے حوالے سے شواہد اور دلائل موجود ہیں اور وہ معاملے میں قانونی چارہ جوئی جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے وکیل اور دوستوں سے مشاورت کے بعد مبینہ حملے کے ذمہ دار قرار دیے جانے والے افراد، جن میں علی حسن زرداری، عاشق زرداری اور حملہ آور شامل ہیں، کے خلاف قانونی کارروائی کا حق استعمال کریں گے۔

حیدر قادری نے سوال اٹھایا کہ اگر ان پر حملہ کرانے والے افراد طاقتور ہیں تو کیا وہ قانون سے بالاتر ہیں۔

واضح رہے کہ حیدر قادری کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ علی حسن زرداری، عاشق زرداری اور مشتاق سرکی کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی شامل کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں