سکھر کے بلڈ بینک ہسپتال کو 6 ماہ کیلئے سیل کرنے کی سفارش

سکھر (رپورٹ: تاج رند) پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی ڈسپلنری کمیٹی نے مریض کے علاج میں غفلت سے متعلق شکایت پر سکھر کے نجی سکھر ہسپتال (بلڈ بینک ہسپتال) کے ڈاکٹر پربھومل ماکھیجا، رجسٹریشن نمبر 11701-S، کو ’’سخت تنبیہ‘‘ جاری کر دی ہے۔

کمیٹی نے معاملے پر فیصلہ کرتے ہوئے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کو مذکورہ ہسپتال چھ ماہ کے لیے سیل کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔ کمیٹی کے فیصلے کی نقل سندھ ہائی کورٹ کے سکھر بینچ کو بھی بھجوائے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پی ایم ڈی سی نے ڈاکٹر پربھومل ماکھیجا کو ’’سخت تنبیہ‘‘ جاری کر دی ہے

پی ایم ڈی سی ڈسپلنری کمیٹی کا اجلاس 4 ستمبر 2026 کو پی ایم ڈی سی سیکریٹریٹ اسلام آباد میں ہوا، جس میں شکایت کنندہ خالدہ رشید اور ڈاکٹر پربھومل ماکھیجا زوم کے ذریعے پیش ہوئے۔ کمیٹی نے متفقہ فیصلے کے ذریعے شکایت نمٹا کر کارروائی ختم کر دی۔

شکایت کا معاملہ کیا تھا؟

شکایت کنندہ خالدہ رشید نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے 38 سالہ شوہر عبدالرشید کو 28 اپریل 2024 کو پیٹ میں درد کی شکایت پر سکھر کے مذکورہ ہسپتال میں داخل کیا گیا۔

شکایت کے مطابق علاج کے دوران مریض کی حالت بگڑتی رہی اور یکم مئی 2024 کو انہیں کراچی ریفر کیا گیا، تاہم راستے میں ٹندو مستی خان کے قریب ان کا انتقال ہوگیا۔ بعد ازاں گمبٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں انہیں مردہ قرار دیا گیا۔

ڈاکٹر کا مؤقف

ڈاکٹر پربھومل ماکھیجا نے اپنے جواب میں کہا کہ مریض ذیابیطس اور بلڈ پریشر کا مریض تھا اور اسے شدید پینکریاٹائٹس لاحق تھی۔

ان کے مطابق مریض کے حوالے سے سرجن سے رائے لی گئی تھی، جس نے فوری آپریشن کی ضرورت نہیں بتائی۔ مریض کی حالت بگڑنے پر ڈوپامین دی گئی جبکہ پھیپھڑوں اور دل کے ماہرین سے مشاورت کا منصوبہ تھا، تاہم لواحقین مریض کو اپنی مرضی سے DOR (Discharge on Request) پر لے گئے۔

پی ایم ڈی سی کمیٹی کے مشاہدات

کمیٹی نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پلورل ایفیوژن اور شاک شدید پینکریاٹائٹس کی معروف پیچیدگیاں ہیں اور انہیں ادویات کے ردعمل کے طور پر قرار نہیں دیا جا سکتا۔

تاہم کمیٹی نے ہسپتال میں مریض کے انتظام اور علاج کے حوالے سے متعدد خامیوں کی نشاندہی کی۔

فیصلے کے مطابق ہسپتال میں سی ٹی اسکین اور انتہائی نگہداشت کی سہولیات موجود نہیں تھیں، اس لیے مریض کو ایسے ہسپتال میں رکھنا مناسب نہیں تھا۔ کمیٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بیماری کی شدت کی باقاعدہ اسکورنگ اور روزانہ نگرانی نہیں کی گئی۔

کمیٹی کے مطابق مریض کی بگڑتی ہوئی حالت کو بروقت نہیں پہچانا گیا جبکہ اسے ضرورت سے زیادہ سیال (فلوئڈ) دیے گئے۔ اس کے علاوہ لواحقین کو بیماری کی سنگینی کے حوالے سے مناسب کونسلنگ فراہم نہیں کی گئی اور مریض کا طبی ریکارڈ بھی تسلی بخش انداز میں برقرار نہیں رکھا گیا۔

کمیٹی نے ہسپتال کے ہائی ڈیپنڈنسی یونٹ (HDU) کے حوالے سے بھی مشاہدہ کیا کہ اسے ایم بی بی ایس ڈاکٹر چلا رہے ہیں۔

ان مشاہدات کی بنیاد پر کمیٹی نے معاملہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کو بھیجنے اور ہسپتال کو چھ ماہ کے لیے سیل کرنے کی سفارش کی۔

ڈاکٹر کی سابقہ معطلی کا معاملہ

فیصلے میں ڈاکٹر پربھومل ماکھیجا کے خلاف ہونے والی سابقہ کارروائی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ 16 جنوری 2026 کو کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے پر ڈاکٹر کا لائسنس معطل کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر کا مؤقف تھا کہ وہ 11 نومبر 2025 سے 11 فروری 2026 تک امریکا میں موجود تھے اور انہیں کمیٹی کا نوٹس موصول نہیں ہوا تھا۔

پی ایم ڈی سی کونسل نے 16 اپریل 2026 کو لائسنس کی معطلی کو برقرار رکھا۔ اس کے بعد ڈاکٹر نے 9 اپریل 2026 کو سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں آئینی پٹیشن D-639 دائر کی۔

عدالت نے فیصلے پر عملدرآمد معطل کرتے ہوئے معاملہ 16 ستمبر 2026 کو دوبارہ مقرر کیا۔ پی ایم ڈی سی کے لیگل ایڈوائزر محمد اسرار الحق ایڈووکیٹ نے عدالت میں تعمیلی رپورٹ اور ڈسپلنری کمیٹی کے فیصلے کی مصدقہ نقل بھی جمع کرائی۔

نوٹس کی ترسیل کے ثبوت کے لیے پی ایم ڈی سی نے ٹی سی ایس سے رسید طلب کی، جس کے مطابق متعلقہ مراسلہ 26 دسمبر 2025 کو ڈیلیور ہونا ظاہر ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں