عدالت، طلبہ یونین اور جمہوری مستقبل کا سوال

ڈاکٹر امرت منظور
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز سندھ ہائی کورٹ کراچی کے ڈویزنل بینچ نے طلبہ یونین کی بحالی کیلئے دائر درخواست مسترد کردی. نہ صرف یہ بلکہ عدالت نے درخواست گذار جامعہ کراچی کے طالبعلم پر یہ کہہ کر دس ہزار جرمانہ بھی عائد کیا کہ انہوں نے “طلبہ یونین کی بحالی کا معاملہ عدالت میں کیوں لایا”. معزز عدالت کا یہ قدم تعلیم اور جمہوریت دونوں کے لیے خطرناک ہے۔ کیونکہ طلبہ سیاست پر پابندی نہ صرف آئین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، بلکہ یہ مستقبل کے رہنماؤں، مفکرین اور فعال شہری ذہنوں کی نشوونما کو بھی روکنے کی مترادف ہے۔

تعلیمی ادارے صرف کتابی علم کی فراہمی کے لیے نہیں ہیں، بلکہ یہ نوجوان ذہنوں کی تربیت، بحث و مباحثہ، تنقیدی سوچ اور اجتماعی ذمہ داری سکھانے کا سب سے مؤثر پلیٹ فارم ہیں۔ شاگرد یونینز اور تنظیمیں نوجوانوں کو سیاسی عمل، فیصلہ سازی اور قیادت کے تجربات فراہم کرتی ہیں۔ ان کے بغیر سیاست کا مستقبل تاریک اور غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھ میں رہ جائے گا۔

یہ پابندی دراصل نوجوانوں کو خاموش کرنے، جمہوری شعور دبانے اور مستقبل کے قائدین کی پرورش روکنے کی کوشش ہے۔ ایسے اقدامات سے سیاست میں جمہوری روایات کمزور ہوں گی اور غیر تربیت یافتہ، روایتی اور سردارانہ سوچ کا تسلط برقرار رہے گا۔

تعلیمی اداروں میں شاگردوں کی سیاسی شمولیت کو بڑھانا چاہیے، نہ کہ ختم کرنا۔ انہیں موقع دینا چاہیے کہ وہ بحث کریں، قراردادیں لائیں، تنظیمیں بنائیں اور جمہوری انداز میں مسائل حل کرنے کا تجربہ حاصل کریں۔ یہ عمل نہ صرف تعلیم بلکہ پورے سماج کے لیے ضروری ہے، تاکہ سیاست طاقت اور قدامت پسند سوچ کے زیر اثر محدود رہنے کے بجائے عقل، دلیل اور تعلیم یافتہ قیادت کے زیر سایہ ترقی کرے۔

طلبا سیاست محض ایک کھیل یا ہلکی سرگرمی نہیں؛ یہ نوجوان ذہنوں کی تربیت، جمہوری شعور کی بنیاد اور مستقبل کے لیڈرز کی پرورش کا سب سے مؤثر میدان ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس کا روشن ثبوت ہے۔ لاہور اور کراچی یونیورسٹی کے طلبا نے 1960 اور 70 کی دہائی میں سیاسی مظاہروں، احتجاجوں اور تنظیم سازی کے ذریعے نہ صرف اپنی رائے کا حق مانگا بلکہ ملک کی جمہوری جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ وہی طلبا بعد میں سیاست، عدلیہ اور دیگر شعبوں میں قائدین بنے۔

انسان ایک سیاسی حیوان ہے اور اسے سیاست سے دور رکھنا ناممکن ہے۔ اس صورت میں یہ اقدام حقیقت میں اکیسویں صدی میں خودکشی کے مترادف ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں