ڈاکٹر امرت منظور
خالی سیٹیں محض داخلہ فہرستوں میں رہ جانے والی خالی جگہیں نہیں، یہ ایک سماج کے اجتماعی سوچ میں پڑنے والی گہری دراڑ کی علامت ہیں_
پنجاب کے پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں پانچویں فہرست کے بعد بھی سینکڑوں نشستوں کا خالی رہ جانا کوئی حادثہ نہیں، نہ ہی کسی اچانک بیداری کا نتیجہ یہ برسوں کے خوابوں، بے رحم ناکامیوں ، بار بار کی ٹھوکروں اور خاموش پچھتاووں کا منطقی انجام ہے
وہ سفید کوٹ جو کبھی عزت، وقار اور تحفظ کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج خوف، غیر یقینی اور معاشی دباؤ کا استعارہ بن چکا ہے_
ایک زمانہ تھا جب ایم بی بی ایس محض ایک ڈگری نہیں، ایک وعدہ تھا۔ والدین اپنی عمر بھر کی کمائی، زمین کے کاغذات، زیور اور جمع پونجی اس یقین پر قربان کر دیتے تھے کہ ان کا بچہ ڈاکٹر بن کر ایک محفوظ اور باعزت زندگی کی دہلیز پر کھڑا ہو جائے گا مگر آج یہ وعدہ اگر جھوٹا نہیں تو شدید کمزور ضرور ہو چکا ہے کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی نہ روزگار کی کوئی ضمانت ہے، نہ پریکٹس کا کوئی یقینی راستہ خاص طور پر لڑکیوں کے لیے، جن کے لیے یہ راہ ابتدا ہی سے تنگ، مشروط اور سوالوں سے بھری ہوئی رہی ہے_
ایک اور اہم پہلو وہ سماجی تصور تھا جس کے تحت لڑکی کو ڈاکٹر بنانا “اچھے رشتے” کی ضمانت سمجھا جاتا تھا وقت نے یہ مفروضہ بھی غلط ثابت کر دیا۔ اب رشتہ دیکھنے والے بھی جانتے ہیں کہ نہ نوکری کی گارنٹی ہے، نہ پریکٹس کی دوسری طرف یہ توقع بھی نہیں رکھی جا سکتی کہ ایک ایم بی بی ایس خاتون روایتی گھریلو کردار ادا کرے گی اس کے اخراجات، اس کی ترجیحات اور اس کی زندگی عام گھریلو خاتون سے مختلف ہوتی ہیں نتیجہ یہ کہ بہت سے خاندان اب اسے خسارے کا سودا سمجھنے لگے ہیں، سوائے ان مضبوط معاشی خاندانوں کے جن کے لیے یہ خرچ آج بھی مسئلہ نہیں_
کئی گھروں میں بیٹی کی تعلیم کو وراثت کے متبادل کے طور پر دیکھا گیا جب جائیداد میں حصہ ممکن نہ تھا تو کتابوں میں سرمایہ لگا دیا گیا۔ امید یہ تھی کہ علم اس کی طاقت بنے گا، اس کی ڈھال ہو گا۔ مگر جب یہی علم اسے اپنے پاؤں پر کھڑا نہ کر سکا تو مایوسی نے جگہ بنا لی اب وہی رقم سونے یا زمین میں لگانا زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے_
اسی دوران دنیا نے ایک اور راستہ کھول دیا کمپیوٹر اسکرین کے اس پار فری لانسنگ اور آئی ٹی کی دنیا کم وقت، کم لاگت اور فوری آمدن کے امکانات لڑکیاں جنہیں برسوں کے انتظار، امتحانوں اور غیر یقینی مستقبل سے خوف آنے لگا تھا، انہوں نے یہ راستہ چن لیا۔ ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور اے آئی جیسے شعبے اب محض خواب نہیں دکھاتے، وہ کچھ واپس بھی دیتے ہیں_
یوں خالی سیٹیں کسی اچانک شعور کی بیداری نہیں، بلکہ ایک نظام کی خاموش ناکامی کا اعلان ہیں یہ اس تعلیمی ماڈل پر ایک سنجیدہ فردِ جرم ہیں جس نے علم کو کاروبار اور خاص طور پر عورت کی تعلیم کو کس سماجی فریم میں قید کر دیا ہے_
جب خواب صرف طاقتور طبقوں کی میراث بن جائیں اور متوسط طبقہ انہیں دیکھنے سے بھی خوفزدہ ہو جائے، تو پھر خالی سیٹیں نہیں رہتیں، خالی مستقبل جنم لیتے ہیں_