اسلام آباد/کوئٹہ(ویب ڈیسک) بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو، بیبرگ ودیگر اسیررہنماؤں نے اپنی ضمانت مسترد ہونے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کر لیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق بی وائی سی رہنماؤں کی جانب سے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 185(3) کے تحت فوجداری درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہائی کورٹ نے 23 فروری 2026 کو ان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
درخواست میں ریاست کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ متعلقہ مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے کوئٹہ میں درج کیا گیا، جس میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات 11-EE اور 11-F(1)(2) شامل ہیں۔ یہ مقدمہ 6 جنوری 2025 کو درج کیا گیا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار اس وقت ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ میں زیرِ حراست ہیں اور انہوں نے عدالتِ عظمیٰ سے استدعا کی ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں قانونی نکات کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا، اس لیے سپریم کورٹ اس معاملے میں مداخلت کرے۔
قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ میں دائر اس درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا اپیل سماعت کے لیے منظور کی جائے یا نہیں۔
دوسری جانب کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی معاونت کے الزام میں زیرِ حراست ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے خلاف درج مقدمے کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
حکام کے مطابق مقدمہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات 11-EE اور 11-F(1)(2) کے تحت درج کیا گیا، جن میں کسی فرد کو دہشت گردی کے الزامات پر فورتھ شیڈول میں شامل کرنا اور کالعدم تنظیم سے تعلق یا معاونت شامل ہے۔
دستاویزات کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو ابتدائی طور پر گزشتہ سال 22 مارچ کو گرفتار کیا گیا اور انہیں بلوچستان مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت 30 روز کے لیے نظر بند کیا گیا۔ بعد ازاں اس نظر بندی میں مزید دو مرتبہ 30، 30 دن کی توسیع کی گئی۔
تیسری مدت ختم ہونے سے قبل ہی انہیں ایک اور مقدمے میں حراست میں لے لیا گیا۔ موجودہ کیس میں انہیں 21 اگست 2025 کو باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا، حالانکہ وہ پہلے ہی مسلسل سرکاری تحویل میں تھیں اور ایف آئی آر کے اندراج کو تقریباً چھ ماہ گزر چکے تھے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے گزشتہ سال 12 جون کو اپنی نظر بندی کے خلاف اپیل دائر کی تھی، جس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے 22 مئی کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا گیا تھا، جس میں ان کی حراست کو برقرار رکھا گیا تھا۔
معاملے پر مزید قانونی کارروائی جاری ہے جبکہ انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے بھی اس کیس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔