ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بغاوت کے مقدمے سے بری، “بلوچ سیاسی آوازوں کو دبانے کیلئے جھوٹے مقدمات کا حربہ استعمال کیا جاتا ہے” جبران ناصر

کراچی(ویب ڈیسک) انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے بدھ کے روز بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو بغاوت اور عوامی شرانگیزی کے مقدمے سے بری کرنے کا حکم سنا دیا۔ یہ مقدمہ ان کے خلاف گزشتہ سال اکتوبر میں کراچی کے تھانہ قائدآباد نے درج کیا تھا۔

ماہ رنگ بلوچ پر الزام تھا کہ انہوں نے 11 اکتوبر 2024 کو مبینہ طور پر ریاستی اداروں کے خلاف الزامات لگا کر عوام کو اشتعال دلایا۔ ان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات سمیت متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مقدمے میں بریت کی درخواست ایڈووکیٹ جبران ناصر نے دائر کی تھی۔ کیس کی سماعت کرنے والے جج ایاز مصطفیٰ جوکھیو نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ اور دلائل کی روشنی میں ملزمہ کے خلاف سزا کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

پانچ صفحات پر مبنی عدالتی حکم نامے کے مطابق:
“میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ملزمہ کے جرم ثابت ہونے کا کوئی امکان نہیں، لہٰذا درخواست منظور کی جاتی ہے اور ملزمہ ماہ رنگ بلوچ کو بری کیا جاتا ہے۔”

شواہد کی ناکافی اور عدالت کی آبزرویشنز

عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کوئی آزاد گواہ پیش کرنے میں ناکام رہا جبکہ چالان میں شامل زیادہ تر گواہ پولیس اہلکار تھے جنہیں واقعے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔
جج نے مشاہدہ کیا کہ گواہوں نے اپنے 161 کے بیانات میں بھی واقعے سے متعلق کوئی بات نہیں بتائی۔

مزید یہ کہ پولیس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کرتے وقت نہ کوئی مقامی گواہ شامل کیا اور نہ ہی اہلِ محلہ سے کوئی بیان لیا۔ عدالت نے چالان جمع کروانے میں 10 ماہ کی تاخیر کو بھی بے وجہ قرار دیا۔

جج نے واضح کیا کہ CrPC کی دفعہ 265-K کے تحت عدالت کسی بھی مرحلے پر ملزم کو بری کرنے کا اختیار رکھتی ہے، حتیٰ کہ چارج فریم ہونے سے پہلے بھی۔

جیل میں قید، دیگر مقدمات برقرار

ماہ رنگ بلوچ کی عدالت میں پیشی کوئٹہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے ہوئی، جہاں وہ مارچ میں گرفتاری کے بعد سے قید ہیں۔ کراچی کیس میں بری ہونے کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا جاسکے گا کیونکہ ان کے خلاف دیگر مقدمات بدستور زیرِ سماعت ہیں۔

مقدمہ من گھڑت ہے: ماہ رنگ بلوچ

ماہ رنگ بلوچ نے مقدمے کو “من گھڑت” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان کی سرگرمیوں سے ریاست کی بڑھتی ہوئی بے چینی کو ظاہر کرتا ہے.

ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں دہشت گردی، بغاوت، اشتعال انگیزی، گروہی دشمنی پھیلانے، ہتھیاروں کے ساتھ ہنگامہ آرائی، ہتکِ عزت اور عوامی بدامنی پھیلانے جیسی دفعات شامل تھیں.

مقدمہ ایک شہری اسد علی شمس کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، جس نے الزام لگایا تھا کہ مہرنگ بلوچ ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیزی اور تشدد پر اکسا رہی تھیں.

ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی بریت نے ریاستی جبر اور ادارہ جاتی ناکامی کو بے نقاب کردیا: جبران ناصر

کراچی میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی انسدادِ دہشت گردی مقدمے میں بریت پر ان کے وکیل جبران ناصر نے سوشل میڈیا پر اپنی رائے دیتے ہوئے اس فیصلے کو ریاستی رویّوں، پولیس اختیارات کے غلط استعمال اور عدالتی تاخیر کا سنگین ثبوت قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ مقدمہ نہ صرف بدنیتی پر مبنی تھا بلکہ اس نے واضح کر دیا کہ بلوچ آوازوں کے خلاف کارروائی کس طرح منظم انداز میں کی جاتی ہے۔

ایڈووکیٹ جبران ناصر

جعلی درخواست گزار، پولیس کا غلط استعمال

جبران ناصر کا دعویٰ ہے کہ مقدمے کے مدعی- جس نے ماہ رنگ بلوچ پر جھوٹے الزامات لگائے- خود اسی تھانے کی تین ایف آئی آرز میں نامزد ملزم تھا اور اسے ریاستی اداروں نے “مہرہ” کے طور پر استعمال کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے اختیارات کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے بغیر کسی ثبوت کے ماہ رنگ کے خلاف چالان جمع کرایا، جبکہ استغاثہ کو غیر قانونی طور پر مقدمہ آگے بڑھانے پر مجبور کیا گیا۔

13 ماہ کی غیر قانونی اذیت

جبران ناصر نے بیان میں مزید کہا کہ عدلیہ نے بھی اس مقدمے کو 13 ماہ تک لٹکائے رکھا، حالانکہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے پاس اختیار تھا کہ وہ اس ہراسانی کو بہت پہلے ختم کر دیتے.
جبران ناصر کے مطابق یہ تاخیر ریاستی دباؤ اور عدالتی کمزوری کی علامت ہے، جس کا خمیازہ ایک سیاسی کارکن کو بھگتنا پڑا۔

ریاستی جبر کے خدشات مضبوط

انسانی حقوق کے رکن جبران ناصر کے مطابق ماہ رنگ بلوچ کی بریت کے بعد ان خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے رہنماؤں کے خلاف بلوچستان میں درج متعدد مقدمات، ان کی مسلسل قید اور انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت ان کی تنظیم کی پابندی سب ریاستی بدنیتی کا نتیجہ ہیں.

بیان کے مطابق:
“یہ فیصلہ اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ ریاست بلوچ سیاسی آوازوں کو دبانے کے لیے جھوٹے مقدمات، گرفتاریوں، جبر اور کالعدم قرار دینے جیسے حربے استعمال کر رہی ہے، جو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔”

اپنا تبصرہ لکھیں