پشاور(ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا اسمبلی نے ہری پور اور ایبٹ آباد کو خیبرپختونخوا سے الگ کرکے اسلام آباد کے انتظامی کنٹرول میں دینے کی مبینہ تجویز کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام صوبائی خودمختاری اور آئینی حقوق کو متاثر کرے گا۔
جمعہ کو اسمبلی اجلاس کے دوران صوبائی وزیر اکبر ایوب نے ہری پور اور ایبٹ آباد سمیت صوبے کے اضلاع کی حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی مبینہ وفاقی تجویز کے خلاف قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع صوبے کا لازمی حصہ ہیں اور انہیں کسی بھی صورت الگ نہیں کیا جاسکتا۔ صوبائی حدود میں انتظامی، سیاسی یا معاشی مقاصد یا قدرتی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے تبدیلی آئینی طور پر صوبے اور عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔
قرارداد میں خیبرپختونخوا کے آبی وسائل، پن بجلی کے منصوبوں، معدنی ذخائر، جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل کا بھی خصوصی ذکر کیا گیا اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ وسائل آئینی طور پر صوبے اور اس کے عوام کی ملکیت ہیں۔ ان وسائل پر براہِ راست یا بالواسطہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہوگی۔
خیبرپختونخوا اسمبلی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہری پور اور ایبٹ آباد کو صوبے سے الگ کرنے سے متعلق کسی بھی تجویز کو فوری طور پر ترک کیا جائے اور خیبرپختونخوا کی موجودہ آئینی، جغرافیائی اور انتظامی حیثیت کا احترام کیا جائے۔
ایوان نے سیاسی جماعتوں، ارکان پارلیمنٹ، آئینی اداروں، وکلا، سول سوسائٹی، نوجوانوں اور میڈیا پر بھی زور دیا کہ صوبے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے متحدہ مؤقف اختیار کیا جائے۔
ڈاکٹروں کے نسخوں میں جنیرک نام اور کمپیوٹرائزڈ نسخوں کا مطالبہ
اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی رکنِ اسمبلی مہر سلطانہ نے ڈاکٹروں کی جانب سے ادویات کے مخصوص برانڈ ناموں کے بجائے جنیرک نام تجویز کرنے کے حوالے سے مؤثر قواعد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ادویات کے نسخوں کو کمپیوٹرائزڈ کرنا بھی لازمی قرار دیا جانا چاہیے، کیونکہ غیر واضح ہاتھ سے لکھے گئے نسخے مریضوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے ساتھ ادویات کے استعمال میں غلطیوں کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
مہر سلطانہ نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ دونوں معاملات کے حوالے سے قانون سازی یا مؤثر ضوابط متعارف کرائے جائیں تاکہ ادویات تجویز کرنے کے طریقہ کار کو بہتر بنایا اور مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔