سندھ کی تقسیم مسائل کا حل نہیں، نئے وفاقی سماجی معاہدے کی ضرورت ہے: کراچی میں سیمینار

کراچی(انڈس ٹربیون) سندھ یونائیٹڈ لائرز فورم کے زیر اہتمام سٹی کورٹ کراچی میں ’’سندھ کو درپیش آئینی، معاشی اور آبی چیلنجز‘‘ کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا، جس میں وکلا، قانون دانوں، سیاسی رہنماؤں اور معاشی ماہرین نے پاکستان میں حقیقی آئینی وفاقیت، صوبائی خودمختاری کے مؤثر نفاذ، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور نئے وفاقی سماجی معاہدے کا مطالبہ کیا۔

سیمینار میں منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ کی تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی وحدت کو وفاق پاکستان کے اندر محفوظ رکھا جائے، سندھ کی تقسیم کے بجائے بہتر حکمرانی، بااختیار بلدیاتی نظام اور آئینی اصلاحات کے ذریعے عوامی مسائل حل کیے جائیں۔

قرارداد میں وفاق کی تمام اکائیوں کے درمیان آئینی برابری، تاریخی و ثقافتی شناختوں کے تحفظ، صوبائی خودمختاری کے بامعنی نفاذ، مالی و قدرتی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور جمہوری و بااختیار مقامی حکومتوں کو نئے وفاقی سماجی معاہدے کے بنیادی اصول قرار دیا گیا۔

شرکا نے سندھ کی زرعی، رہائشی، ماحولیاتی اور ثقافتی اہمیت کی حامل زمین کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر زرعی اراضی کی منتقلی اور ایسے کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں کی مخالفت کی جو مقامی کسانوں، مزارعین اور آبادیوں کے حقوق کو متاثر کرتے ہوں۔

قرارداد میں دریائے سندھ، اس کے پورے طاس اور ڈیلٹا کے تحفظ، سندھ کے آبی حصے اور ماحولیاتی بہاؤ کو یقینی بنانے جبکہ ایسے نئے کینالز اور آبی منصوبوں پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا جو سندھ کے آبی حقوق کو متاثر کرتے ہوں۔ مقررین نے کہا کہ طرز حکمرانی کے مسائل کا حل صوبوں کی تقسیم نہیں بلکہ شفاف، جواب دہ اور بااختیار حکمرانی ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ نے کہا کہ سندھ ایک تاریخی وطن ہے اور تاریخی وطنوں نے مل کر وفاق پاکستان بنایا، تاہم وفاق کی جانب سے صوبوں کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں ماضی سے جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وسائل پر کنٹرول کے لیے ماضی میں ون یونٹ قائم کیا گیا جبکہ آج ایس آئی ایف سی کے ذریعے صوبوں کے وسائل پر قبضے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق سمندر، زرعی زمین، کوئلہ، گیس اور دریائے سندھ سمیت صوبے کے وسائل پر براہ راست یا بالواسطہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں تشویش ناک ہیں۔

سید زین شاہ نے کہا کہ آئینی اختیارات حاصل ہونے کے باوجود صوبوں کو اپنے وسائل اور بجٹ کے حوالے سے مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔ جن کینالز کو ختم کیا گیا تھا انہیں دوبارہ عملی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ پانی کی شدید کمی کے باوجود نئے کینالز تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے چولستان اور گریٹر تھل کینال سسٹم کے ذریعے لاکھوں ایکڑ اراضی کو پانی فراہم کرنے کے منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی کمی کے باعث سندھ کا ڈیلٹا تباہ اور زراعت شدید متاثر ہو رہی ہے۔

سید زین شاہ نے خارجہ پالیسی کو علاقائی امن اور پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر استوار کرنے جبکہ معاشی پالیسی میں بھی خطے کے ممالک کے ساتھ دوستانہ اقتصادی تعلقات کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

معروف ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ سندھ کو تقسیم کرنے کی باتیں پہلی بار نہیں ہو رہیں اور سندھ کی تاریخ میں ایسے کئی مواقع آئے جب صوبے کی وحدت اور حقوق کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ ون یونٹ کے قیام کی حمایت میں سندھ اسمبلی نے بھی ووٹ دیا تھا جبکہ پٹرولیم لیوی اور جی ایس ٹی سمیت مختلف معاملات میں صوبوں کے آئینی حقوق متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کو درپیش مسائل میں بعض اوقات سندھ کے اپنے بااثر افراد بھی سمجھوتوں کے ذریعے نقصان کا سبب بنتے رہے ہیں۔

ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ اسلام آباد سے کیے جانے والے معاہدوں کے معاملے میں صوبوں کو محتاط رہنا چاہیے، کیونکہ ماضی میں سندھ کے مفادات پر سمجھوتے کیے جاتے رہے ہیں۔

پاکستان بار کونسل کے رکن بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام مسائل کا حل نہیں، اصل مسئلہ ملک میں اعتماد کی شدید کمی ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر تمام فریق متفق ہیں، اس لیے بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیارات دینے کے ساتھ شفاف انتخابات کرائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات، زراعت، ماحولیات اور پانی جیسے مسائل کو نئے صوبوں کے قیام سے جوڑنا درست نہیں۔ ان کے مطابق 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدلیہ کی آزادی متاثر ہوئی ہے اور آزاد و مضبوط عدلیہ کے بغیر آئین کی بالادستی اور عوام کے حقوق کا تحفظ ممکن نہیں۔

کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ سندھ کے عوام نے سندھ کی تقسیم کو مسترد کردیا ہے اور ماضی میں بھی ایسی کوششوں کو عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری محمد ارشد شر نے کہا کہ قومی اسمبلی کو صوبوں کی تقسیم کا اختیار نہیں، سندھ کی وحدت کے خلاف کسی بھی اقدام کو سندھ کے عوام قبول نہیں کریں گے۔

سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد حسیب جمالی نے کہا کہ پاکستان میں بنیادی حقوق اور آزاد عدلیہ کے حوالے سے سنجیدہ مسائل موجود ہیں جبکہ آئین پر بھی مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ نے ہمیشہ دوسروں کو اپنا بنایا ہے۔

فورم کے سیکریٹری خواجہ نوید امین نے کہا کہ سندھ کے عوام کے آئینی، سیاسی، معاشی، آبی اور قدرتی وسائل سے متعلق حقوق کے تحفظ، صوبائی خودمختاری اور حقیقی وفاق کے فروغ کے لیے آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ کی تاریخی، جغرافیائی، ثقافتی اور معاشی وحدت کا تحفظ آئین، قانون اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے کیا جائے گا۔ انہوں نے وکلا، سیاسی کارکنوں، دانشوروں اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ سندھ کے پانی، زمین، قدرتی وسائل، ساحلی پٹی، ڈیلٹا اور دیگر آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہوکر کردار ادا کریں۔

مقررین نے کہا کہ پاکستان کو مضبوط بنانے کا راستہ صوبوں کو کمزور کرنے میں نہیں بلکہ نئے وفاقی سماجی معاہدے، حقیقی وفاقیت، صوبائی خودمختاری، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بااختیار جمہوری اداروں کے قیام میں ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں