سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش کسی صورت قبول نہیں، عوامی تحریک کا بھرپور مزاحمت کا اعلان

حیدرآباد(انڈس ٹربیون) عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری نے کہا ہے کہ سندھ تاریخی طور پر سندھی عوام کا وطن ہے اور اس کی وحدت و سالمیت کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے سندھ کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے، معدنی وسائل اور زمینوں پر قبضوں، جلالپور کینال سمیت دیگر کینالوں اور ڈیموں کے خلاف پورے سندھ میں عوامی بیداری مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔

حیدرآباد میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ وسند تھری نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے پاکستان کی قرارداد منظور کرکے پاکستان کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا، تاہم قیام پاکستان کے بعد سے ہی قرارداد پاکستان میں کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہوتی رہی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ عالمی مالیاتی اداروں، آئی ایم ایف کی پالیسیوں اور ملکی سیاسی نظام پر اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی نے پاکستان اور عوام کو نقصان پہنچایا، جبکہ سندھ کے تیل، گیس، کوئلے، سونے، چاندی، تانبے، لیتھیم، گرینائٹ اور دیگر معدنی وسائل کے ساتھ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی پر قبضے کے لیے ایس آئی ایف سی جیسے ادارے قائم کیے گئے ہیں۔

عوامی تحریک کے مرکزی صدر نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی قائم ہے، سیاسی سرگرمیوں اور میڈیا پر پابندیاں عائد ہیں جبکہ صوبوں کو تقسیم کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام اپنی سرزمین کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

ایڈووکیٹ وسند تھری نے سندھ کے پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پنجاب کے حکمران طویل عرصے سے سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ ان کے مطابق جلالپور کینال کو مبینہ طور پر زبردستی چلایا گیا جبکہ چشمہ جہلم لنک کینال اور تونسہ پنجند کینال کو بھی مسلسل چلایا جا رہا ہے، جس سے سندھ کو پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کی لاکھوں ایکڑ زمینیں کارپوریٹ فارمنگ کے حوالے کی جا رہی ہیں، جبکہ سندھ کے کسانوں کے مسائل حل نہیں کیے جا رہے۔

وسند تھری نے بتایا کہ عوامی تحریک کی مرکزی کونسل کے اجلاس میں ملکی، عالمی اور سندھ کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی سازشوں، معدنی وسائل، زمینوں پر قبضوں، جلالپور کینال سمیت تمام کینالوں اور ڈیموں کے خلاف پورے سندھ میں عوامی بیداری مہم شروع کی جائے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ مہم کے پہلے مرحلے میں 15 اگست کو حیدرآباد میں عوامی کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں سیاسی جماعتوں، سماجی رہنماؤں، ادیبوں، دانشوروں، شاعروں، صحافیوں، وکلا، آبادگاروں، کسانوں اور طلبہ رہنماؤں کو مدعو کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی، سکھر، میرپورخاص، لاڑکانہ، سانگھڑ اور مٹھی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں بھی عوامی کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی، جبکہ چھوٹے بڑے شہروں، دیہات اور اسٹاپس پر ہینڈ بل تقسیم کرکے عوام کو سندھ کی زمین، پانی، معدنی وسائل اور وحدت کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا جائے گا۔

عوامی تحریک نے لاڑکانہ میں سندھ کی ممکنہ تقسیم کے خلاف سندھی ادبی سنگت کی ریلی پر پولیس کارروائی اور رہنماؤں کی گرفتاری جبکہ وارہ میں عوامی تحریک کے رہنما عرفان منان چانڈیو کے گھر پر پولیس چھاپے کی بھی شدید مذمت کی۔

اجلاس میں پاکستان بار کونسل کی جانب سے صوبوں سے متعلق مبینہ مہم کی بھی مذمت کی گئی اور ملک بھر کی بار کونسلوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ آئین، قانون اور ملک میں شامل اکائیوں کے وجود کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

عوامی تحریک نے مطالبہ کیا کہ جس طرح خیبرپختونخوا اسمبلی نے نئے صوبوں کے خلاف قرارداد منظور کی ہے، اسی طرح سندھ اسمبلی کو بھی سندھ کی وحدت کے تحفظ کے لیے قرارداد منظور کرنی چاہیے۔

ایڈووکیٹ وسند تھری نے کہا کہ سندھ کے پانی، زمین، معدنی وسائل اور وحدت کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی اور سندھ کو تقسیم کرنے یا سندھی عوام کو اپنی ہی سرزمین پر بے وطن کرنے کی کسی بھی کوشش کو عوام قبول نہیں کریں گے۔

پریس کانفرنس اور مرکزی کونسل کے اجلاس میں عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ ساجد حسین میہسر، نور احمد کاتیار، ستار رند، سندھیاڻي تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سموں، پرہہ سومرو، راحیل بھٹو، ڈاکٹر رسول بخش خاصخیلی، لال جروار، عبدالقادر رانٹو، اسماعیل خاصخیلی، کاشف ملاح، علی محمد پرویز، سرواڻ جتوئی سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ لکھیں