لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے توہینِ مذہب کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے سابق لیکچرار جنید حفیظ کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کرتے ہوئے استغاثہ سے مقدمے میں پیش کیے گئے الیکٹرانک شواہد کی قانونی حیثیت پر دلائل طلب کر لیے۔
جسٹس صادق محمود خرم اور جسٹس جواد ظفر پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے منگل کو اپیل کی سماعت کی۔ عدالت نے استغاثہ کو ہدایت کی کہ وہ جنید حفیظ کے خلاف پیش کیے گئے الیکٹرانک شواہد کے حوالے سے عدالت اور درخواست گزار کے وکلا کو مطمئن کرے۔
جنید حفیظ نے سزائے موت کے خلاف اپیل 9 جنوری 2020 کو لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی تھی۔ وکلا کے مطابق تقریباً چھ سال کے وقفے کے بعد اس اپیل پر منگل کو پہلی باقاعدہ سماعت ہوئی۔
جنید حفیظ کے وکیل اسد جمال کےمطابق کیس کی آئندہ سماعت 10 اکتوبر کو ہوگی۔
قانونی ٹیم میں شامل وکیل سیف الملوک نے بھی سماعت کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے بعد اپیل کی سماعت شروع ہونا اہم پیش رفت ہے۔
جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور سے تعلق رکھنے والے جنید حفیظ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبۂ انگریزی میں بطور وزٹنگ لیکچرار خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے فل برائٹ اسکالرشپ کے تحت امریکہ میں اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی تھی۔
جنید حفیظ کے خلاف 2013 میں مذہبی دل آزاری پر مبنی کلمات اور سوشل میڈیا پر مبینہ توہین آمیز تبصرے کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سکیورٹی خدشات کے باعث مقدمے کی سماعت ملتان سینٹرل جیل میں ہوئی۔
مقدمے کے دوران جنید حفیظ کے پہلے وکیل راشد رحمٰن کو 7 مئی 2014 کو ان کے چیمبر میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کی ہلاکت کے بعد دیگر وکلا نے بھی مختلف وجوہات کی بنا پر کیس کی پیروی سے دستبرداری اختیار کی، جبکہ ایک وکیل نے دھمکیاں ملنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
مقدمے میں استغاثہ کی جانب سے یونیورسٹی کے اساتذہ، طلبہ اور پولیس اہلکاروں سمیت متعدد گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔
21 دسمبر 2019 کو ملتان سینٹرل جیل میں مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے جنید حفیظ کو توہینِ مذہب کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔ عدالت نے مذہبی منافرت پھیلانے سے متعلق دیگر الزامات میں انہیں عمر قید اور مزید 10 سال قید کی سزا بھی سنائی، جبکہ پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔
فیصلے کے خلاف جنید حفیظ کے اہلخانہ نے 9 جنوری 2020 کو لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ میں اپیل دائر کی، جسے بعد ازاں لاہور منتقل کر دیا گیا۔
اب تقریباً چھ سال بعد اپیل کی باقاعدہ سماعت شروع ہوئی ہے، جس میں عدالت نے مقدمے کے الیکٹرانک شواہد کی قانونی حیثیت کو اہم نکتے کے طور پر سامنے رکھا ہے۔