پشاور(ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بادل پھٹنے اور شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ صوبائی حکام کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 146 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر بونیر، کاشف قیوم کے مطابق صرف ضلع بونیر میں بادل پھٹنے کے بعد آنے والے طوفانی سیلاب میں 78 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ نقصان پہاڑی علاقوں میں ہوا ہے اور مزید اموات کا خدشہ ہے۔ بونیر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 126 مرد، 8 خواتین اور 12 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 12 مرد، دو خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔ مختلف حادثات میں سات گھر مکمل طور پر تباہ اور 28 جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں باجوڑ، بٹگرام، تورغر، مانسہرہ، سوات، بونیر اور شانگلہ شامل ہیں، جبکہ ریسکیو ٹیمیں اب بھی کئی مقامات پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
باجوڑ میں ہلاکتیں
ضلع باجوڑ کی تحصیل سلارزئی میں آسمانی بجلی گرنے اور بادل پھٹنے سے آنے والے سیلاب میں 21 افراد جاں بحق ہوئے۔ حکام کے مطابق 18 لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں، جبکہ تین لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ حادثے میں چار مکانات مکمل تباہ اور تین افراد زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کو تشویشناک حالت میں پشاور منتقل کیا گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے باعث جبراڑئی میں سات مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے، جن میں دب کر دس افراد جاں بحق ہو گئے۔ فرنٹیئر کور نارتھ نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے متاثرین کو خیمے اور دیگر امدادی سامان فراہم کیا ہے۔
بٹگرام اور مانسہرہ میں نقصانات
بٹگرام اور مانسہرہ کے سرحدی گاؤں نیل بند میں جمعرات کی رات بادل پھٹنے سے تین سے چار مکانات بہہ گئے۔ ڈپٹی کمشنر بٹگرام، اشتیاق احمد کے مطابق اس واقعے میں 21 افراد جاں بحق ہوئے۔ ندی کے کنارے سے 11 لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ دس لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
پاک فوج نے ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ تمام متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے تک کارروائی جاری رہے گی۔
حکومتی ردعمل
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ بارشوں کے پیش نظر ہائی الرٹ پر رہے اور پیشگی حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو خیبرپختونخوا حکومت سے رابطہ کرکے امدادی کارروائیوں میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متاثرین کی مدد اور جان بچانے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں۔