کوئٹہ(ویب ڈیسک) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سریاب شاہوانی اسٹیڈیم کے قریب بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے جلسے کے اختتام پر پارکنگ ایریا میں دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 13 افراد جاں بحق جبکہ 31 سے زائد شدید زخمی ہوگئے۔
پولس کے مطابق جلسے کے بعد بی این پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر واپس جا رہی تھی کہ اچانک ایرینا کمپلیکس کے قریب موجود خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ زور دار دھماکے کے بعد بھگڈر مچ گئی جبکہ قریبی درجنوں گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں تباہ ہوگئیں۔
سیکیورٹی فورسز، پولیس اور سی ٹی ڈی کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر لاشوں اور زخمیوں کو سول اسپتال اور بی ایم سی منتقل کیا گیا۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور ڈاکٹرز و طبی عملے کو فوری طور پر طلب کرلیا گیا۔
جاں بحق و زخمی افراد
ہلاک ہونے والوں میں پولیس اہلکار اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن شامل ہیں۔ زخمیوں میں احمد نواز بلوچ، موسیٰ جان بلوچ، نادر محمد صادق، سراج احمد، نصیب اللہ، بشیر علی اکبر، محمد اسحاق، شاہ فیصل، فرمان، محمد مراد عرفان، مد خان، شبیر احمد، نور احمد فاروق، میر باز خان، عبداللطیف، کاشف، بسم اللہ، بصیر، نواب، کلیم اللہ، رسول بخش، محمد یوسف، سمیع اللہ اور دیگر شامل ہیں۔
اختر مینگل، اچکزئی سمیت سیاسی قیادت محفوظ
خودکش حملے کے وقت بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے رہنما کبیر احمد شمی سمیت دیگر اہم رہنما جلسے میں موجود تھے تاہم وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
حکومتی ردِعمل
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سر فراز بگٹی نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا حکم دیا اور زخمیوں کو فضائی ذرائع سے کراچی منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر صحت مجتبیٰ محمد کاکڑ اور محکمہ صحت کے حکام فوری طور پر اسپتال پہنچے اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی۔
سیاسی و مذہبی جماعتوں کی مذمت
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے دھماکے کی مذمت کی ہے۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، مجلس وحدت المسلمین کے ناصر حسین اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ بیرسٹر گوہر ایوب خان نے الگ الگ بیانات میں کہا کہ یہ حملہ سیاسی کارکنوں اور جمہوری عمل کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔
رہنماؤں نے مزید کہا کہ:
قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کو امن فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔
جمہوری قوتوں کا راستہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ روکا جا رہا ہے۔
ہم سردار اختر مینگل اور محمود خان اچکزئی سمیت تمام قائدین سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ رواں سال مارچ میں بھی بلوچستان نیشنل پارٹی کے لانگ مارچ کے دوران مستونگ کے قریب خودکش دھماکا ہوا تھا، تاہم اس وقت پارٹی قیادت محفوظ رہی تھی۔