سکھر ریجن میں جعلی ادویات کی بھرمار، گھناؤنے کاروبار پر حکام خاموش

سکھر(رپورٹ: تاج رند) سکھر میں واقع ہول سیل میڈیسن مارکیٹ کے بارے میں باوثوق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ جگہ ملک بھر میں تیار ہونے والی جعلی، غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری ادویات کی ایک بڑی ترسیلی گاہ بن چکی ہے، جہاں سے سندھ اور خیبرپختونخوا سمیت مختلف صوبوں میں ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق سکھر شہر کے وسط میں واقع اس مارکیٹ میں لاہور، فیصل آباد، نوشہرہ، پشاور، روہڑی اور خیرپور سمیت مختلف شہروں میں تیار ہونے والی جعلی ادویات کی بڑی مقدار آتی ہے۔ ان میں مبینہ طور پر اے جی پی، جی ایس کے، مارٹن ڈاؤ، سرل اور ایبٹ جیسی معروف ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نام اور پیکنگ میں تیار کی گئی ادویات بھی شامل ہیں۔

سرکاری اور سیمپل ادویات کی فروخت کے الزامات

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض ہول سیلرز سندھ کے مختلف سرکاری ہسپتالوں سے سستے داموں حاصل کی گئی سرکاری ادویات اور کمپنیوں کی جانب سے ڈاکٹروں کو بطور سیمپل دی جانے والی دواؤں کی پیکنگ تبدیل کر کے مارکیٹ میں فروخت کر رہے ہیں۔ اسی طرح عطائی ڈاکٹروں سے لے کر بڑے ہسپتالوں کے بعض معالجین تک پر الزام ہے کہ وہ کمیشن کے عوض مریضوں کو جعلی اور غیر معیاری ادویات تجویز کرتے ہیں۔

ان الزامات کے باعث سکھر ریجن کے متعدد میڈیکل اسٹورز میں غیر رجسٹرڈ اور مشتبہ معیار کی ادویات کی دستیابی کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

خفیہ گودام اور مبینہ رشوت
ذرائع کے مطابق میڈیسن مارکیٹ کے کئی ہول سیلرز نے زیر زمین اور عمارتوں کی تیسری اور چوتھی منزلوں پر خفیہ گودام بنا رکھے ہیں جہاں بڑی مقدار میں جعلی ادویات ذخیرہ کی جاتی ہیں۔
مزید یہ کہ سالانہ اربوں روپے کے اس مبینہ کاروبار کے بدلے ڈرگ انسپیکشن حکام کو کروڑوں روپے کی رشوت دی جاتی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سکھر ریجن میں ہول سیلرز اور میڈیکل اسٹورز سے ششماہی بنیادوں پر پندرہ ہزار سے لے کر پانچ لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے ہیں، جو مبینہ طور پر ڈرگ انسپکٹر کے دفتر کے نائب قاصد اکٹھا کرتے ہیں۔

چھاپہ اور برآمدگی
ذرائع کے مطابق چند روز قبل خفیہ اطلاع پر ڈرگ انسپکٹر سکھر کی سربراہی میں میڈیسن مارکیٹ میں واقع جگدیش کمار نامی ہول سیلر کے ’پاپولر میڈیکوز‘ نامی ہول سیلر پر چھاپہ مارا گیا۔ چھاپے کے دوران چوتھی منزل پر قائم ایک خفیہ گودام سے بوریوں میں بند لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد کی گئیں جو مبینہ طور پر گلیکسو ویلز اور دیگر کمپنیوں کی جعلی پیکنگ میں تھیں۔
تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مبینہ طور پر چھ لاکھ روپے کے لین دین کے بعد ملزم کے خلاف کارروائی روک دی گئی۔

چھاپے کے دوران پاپولر میڈیکوز کے چوتھی منزل پر قائم ایک خفیہ گودام سے بوریوں میں بند لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد کی گئیں

حکام کا مؤقف
ڈرگ انسپکٹر بلال آرائیں انڈس ٹربیون کو بتایا کہ خفیہ اطلاع پر کارروائی کے دوران ادویات برآمد کی گئیں اور ان کے نمونے تجزیے کے لیے ڈرگ لیبارٹری کراچی بھجوا دیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لیبارٹری رپورٹ آنے کے بعد ہی یہ طے کیا جا سکے گا کہ برآمد شدہ ادویات جعلی تھیں یا اصلی۔
دوسری جانب صحت کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ غیر معیاری ادویات کے استعمال سے مریض نہ صرف صحت یاب ہونے میں ناکام رہتے ہیں بلکہ مزید پیچیدگیوں اور بعض صورتوں میں جان کے ضیاع کا بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سکھر کی میڈیسن مارکیٹ سے متعلق الزامات نے ایک بار پھر ملک میں ادویات کی نگرانی اور احتساب کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں