سکھر(رپورٹ: تاج رند) کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی نے سرکاری ادویات کی بڑی مقدار ایک زیر تعمیر/ زیر استعمال نجی مکان سے ملنے کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پرنسپل غلام محمد مہر میڈیکل کالج (جی ایم ایم ایم سی) سکھر اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جی ایم ایم ایم سی(سول ہسپتال) سکھر کو فوری محکمہ جاتی انکوائری اور اصلاحی اقدامات کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

انڈس ٹربیون کو ذرائع سے موصول کمشنر سکھر کے خط کے مطابق سرکاری ادویات، جو مبینہ طور پر سول اسپتال/ جی ایم ایم ایم سی سکھر کی تھیں، ایک نجی گھر سے برآمد ہوئی ہیں، جسے حکام نے ادویات کی ذخیرہ اندوزی، چوری، بدعنوانی اور ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ کمشنر نے معاملے کو انتہائی سنجیدہ اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔
گذشتہ ماہ 30 اکتوبر کو خفیہ اداروں کی مدد سے مختیارکار نیو سکھر نے کرسٹل ماڈل ٹاؤن (سی ایم ٹی) میں یاسین بھیو نامی ایک شخص کی زیر تعمیر عمارت پر چھاپہ مارا تھا جہاں سے سندھ حکومت کے مونوگرام کے ساتھ Not for sale کے اسٹیمپ لگے ہوئے لگ بھگ ایک کروڑ مالیت کے سرکاری ادویات برآمد کی گئی تھی.
ذرائع کے مطابق مذکورہ ادویات میڈیسن مارکیٹ سکھر میں جے ایس ٹریڈرس کے نام سے فارما کے ہول سیلر ہریش کمار وادہوانی نے سول ہسپتال سکھر سمیت مختلف سرکاری ہسپتالوں سے سستے دام خرید کر مارکیٹ میں فروخت کرنے کیلئے چھپائی تھیں.

باوثوق ذرائع کے مطابق بھاری مقدار میں سرکاری ادویات کی برآمدگی پر ڈرگ انسپیکٹر سکھر شفق چاچڑ نے مبینہ طور پر 14لاکھ روپے رشوت کے عیوض معاملے کو رفع دفع کرتے ہوئے سرکاری ادویات کا گھناؤنی کاروبار کرنے والے مرکزی ملزم ہریش کمار کو قانونی کارروائی سے بچالیا، تاہم انڈس ٹربیون کی مسلسل نشاندہی کے بعد کمشنر سکھر نے نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا ہے.
ادہر ڈرگ انسپیکٹر سکھر شفق چاچڑ نے انڈس ٹربیون کو آن رکارڈ موقف دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ “ہمارے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں کے برآمد شدہ سرکاری ادویات ہریش کمار نے چھپا کر رکھے تھے، میں نے کراچی رپورٹ بھیج دی ہے، انکوائری مکمل نہ ہونے تک ہم ایف آئی آر درج نہیں کراتے”.
کمشنر سکھر عابد قریشی نے جاری کردہ خط پرنسپال جی ایم سی اور میڈیکل سول ہسپتال کو حکم دیا ہے کہ محکمہ جاتی انکوائری کا آغاز کر کے بتایا جائے کہ سرکاری ادویات نجی مکان تک کیسے پہنچیں؟ آیا چوری، خورد برد یا ملی بھگت شامل ہے؟ اسٹاک مینجمنٹ کے ذمہ دار اہلکاروں کی نشاندہی کی نشاندہی کی جائے. 48 گھنٹوں میں فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ، اور 7 دن میں لازمی طور پر مکمل انکوائری رپورٹ جمع کرائی جائے.
کمشنر نے حکم دیا ہے کہ جی ایم سی ہسپتال کے اسٹور اسٹاف کو فوری معطل اور تبدیل کیا جائے. موجودہ اسٹور عملے کو فوراً ہٹا کر ذمہ دار سینئر اسٹاف تعیناتی کے ساتھ مریضوں کو ادویات کی فراہمی میں رکاوٹ نہ آنے دیا جائے. سیکورٹی اور حفاظتی اقدامات سخت کرنے کے ساتھ تمام میڈیسن اسٹاکس اور ریکارڈ کا مکمل آڈٹ کر کے اسٹور پر سی سی ٹی وی، تالوں اور کنٹرولڈ ایکسس سسٹم کی بحالی کو یقینی بنائی جائے. کمشنر کے ہدایات کے مطابق چین آف کسٹڈی کا شفاف نظام قائم کرکے ریکارڈ میں موجود خامیاں فوری دور کی جائیں اور مجرمانہ معاملہ ثابت ہونے پر پولیس کو کیس بھیجا جائے.
کمشنر نے واضح کیا کہ ذمہ دار کسی بھی اہلکار کے خلاف ای اینڈ ڈی رولز کے تحت فوری کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے واقعات نہ صرف عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں بلکہ صحت کی سہولیات کو نقصان پہنچاتے ہیں، اس لیے سختی سے نمٹا جائے گا.