اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلام آباد کی ایک سیشن عدالت نے ہفتے کے روز وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر قابلِ اعتراض مواد شائع کرنے کے مقدمے میں مجموعی طور پر 17 سال قید اور بھاری جرمانوں کی سزا سنا دی ہے۔
اضافی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی جانب سے جاری تحریری فیصلے کے مطابق استغاثہ ملزمان کے خلاف الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) کے تحت الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو گذشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک الگ مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق دونوں کو جمعے کے روز اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مبینہ طور پر عدالتی کارروائی کے لیے جا رہے تھے، جس کے بعد انہیں الگ الگ گاڑیوں میں نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں دونوں کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا تھا۔
عدالتی فیصلے میں بتایا گیا کہ پیکا کی دفعہ 9 (جرم کی تشہیر) کے تحت ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو پانچ، پانچ سال قیدِ بامشقت اور فی کس 50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی، جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ایک، ایک سال مزید قید بھگتنا ہوگی۔
اسی طرح پیکا کی دفعہ 10 (سائبر دہشت گردی) کے تحت دونوں کو دس، دس سال قیدِ بامشقت اور فی کس تین کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید دو، دو سال قید کی سزا مقرر کی گئی۔
پیکا کی دفعہ 26-اے (جھوٹی اور جعلی معلومات) کے تحت عدالت نے دونوں کو دو، دو سال قیدِ بامشقت اور فی کس 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ جرمانہ ادا نہ ہونے کی صورت میں چھ، چھ ماہ مزید قید کا حکم دیا گیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ تمام سزائیں بیک وقت چلیں گی اور ملزمان کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382-بی کا فائدہ بھی دیا گیا، جس کے تحت حراست میں گزارا گیا عرصہ سزا میں شامل ہوگا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ دونوں ملزمان اس مقدمے کی سماعت کے دوران کسی اور کیس میں بھی حراست میں تھے اور عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے۔
جج مجوکہ نے فیصلے میں اگست 2025 میں درج سب انسپکٹر شروز ریاض کی شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایمان مزاری نے 2021 سے 2025 کے دوران سوشل میڈیا پر مسلسل ایسا مواد شائع کیا جو ریاستی اداروں کے خلاف نفرت، غلط معلومات اور اشتعال انگیزی پر مبنی تھا، جبکہ ان کے شوہر نے مبینہ طور پر اس عمل میں معاونت کی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ملزمان کے ٹوئٹس اور دیگر سوشل میڈیا مواد میں ریاستی اداروں، خصوصاً مسلح افواج، پر دہشت گردی اور جبری گمشدگیوں کے الزامات عائد کیے گئے اور پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر پیش کیا گیا۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملزمان کا مواد کالعدم تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بیانیے سے ہم آہنگ تھا، جبکہ بعض ٹوئٹس میں ممنوعہ تنظیموں اور بعض افراد کے ساتھ مبینہ طور پر یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا گیا۔
عدالت کے مطابق دونوں ملزمان بطور وکیل اس امر سے آگاہ تھے کہ پاکستان دہشت گرد ریاستوں کی فہرست میں شامل نہیں، اس کے باوجود انہوں نے دانستہ طور پر ایسا مواد شائع کیا جو ریاست مخالف بیانیے کو تقویت دیتا ہے۔
عدالت نے شواہد کی بنیاد پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو پیکا 2016 کی دفعات 9، 10 اور 26-اے کے تحت جرم کا مرتکب قرار دیا۔