ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ گرفتار، 14روزہ جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم

اسلام آباد(ويب ڈیسک) اسلام آباد میں معروف انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل ایمان زینب مزاری حاضِر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو پولیس نے جمعے کے روز گرفتار کر کے انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان اور ہادی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

تھانہ سیکرٹریٹ میں درج مقدمہ نمبر 72/25 کے تحت پولیس نے دونوں گرفتار ملزمان کو اسپیشل کورٹ ون کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کے روبرو پیش کیا۔ سماعت کے دوران تفتیشی افسر نذیر مغل نے سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جسے عدالت نے مقدمے کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد غیر ضروری قرار دے دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ ملزمان کو 6 فروری 2026 کو دوبارہ پیش کیا جائے، جبکہ پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ تعزیراتِ فوجداری کی دفعہ 173 کے تحت تفتیشی رپورٹ آئندہ سماعت سے قبل عدالت میں جمع کرائی جائے۔

“ایمان، ہادی اور وکلاء کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا” : شیرین مزاری
دوسری جانب سابق وفاقی وزیر اور ایمان مزاری کی والدہ شیرین مزاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد بیانات میں گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس نے ایمان اور ان کے شوہر کو الگ الگ گاڑیوں میں بٹھا کر نامعلوم مقامات پر منتقل کیا اور گرفتاری کے وقت کوئی ایف آئی آر بھی پیش نہیں کی گئی۔

گرفتاری کے دوران ایمان اور ہادی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا: شیرین مزاری

شیرین مزاری کے مطابق ایمان اور ہادی آج ایک متنازع ٹوئٹس کیس میں ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش ہونے والے تھے، تاہم راستے میں پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے گرفتاری کے دوران وکلا پر تشدد کیا، گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے اور بار عہدیداران کو بھی مبینہ طور پر زد و کوب کیا گیا۔

وکلاء کا ردعمل، ہڑتال کا اعلان

اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر واجد علی گیلانی نے واقعے کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سیرینا چوک کے قریب زبردستی گاڑی سے اتار کر گرفتار کیا، جبکہ پہلے انہیں عدالت میں پیش ہونے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی گرفتاری کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا ہے. فوٹو: ایکس

واقعے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد بار ایسوسی ایشن اور اسلام آباد بار کونسل نے گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے جمعے اور ہفتے کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ بار تنظیموں نے اسے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے دونوں وکلا کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مرکزی مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں اگست 2025 میں درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر سوشل میڈیا کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف مواد پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس کیس میں جنوری 2026 میں ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔

مقدمے کی مزید کارروائی آئندہ سماعت پر ہو گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں