خیرپور میں کاروکاری کے الزام پر 22 سالہ لڑکی قتل، ’والدین کے سوا پورا گاؤں شریکِ جرم‘

سکھر(رپورٹ: تاج رند) سندھ کے ضلع خیرپور کے علاقے ٹنڈو مستی میں 22 سالہ لڑکی روبینا چانڈیو کو کاروکاری کے الزام میں ہجوم کے سامنے گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 10 اپریل کی رات پیش آیا، جب روبینا ایک نوجوان کے ساتھ گھر سے نکلی تھیں۔ بعد ازاں برادری کے دباؤ پر انہیں چند گھنٹوں کے اندر ان کے ماموں قیصر چانڈیو اور دیگر افراد کے حوالے کر دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گاؤں کے درجنوں افراد جمع ہوئے اور لڑکی کو ’کاری‘ قرار دیتے ہوئے قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق رات تقریباً تین بجے روبینا کو گاؤں سے باہر لے جا کر ہجوم کے سامنے سینے پر گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے دوران موجود افراد نے لڑکی کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی اور وہ تماشائی بنے رہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ روبینا زخمی حالت میں کچھ دیر تک تڑپتی رہیں اور بعد ازاں دم توڑ گئیں۔

ذرائع کے مطابق اطلاع ملنے کے باوجود پولس تقریباً دو گھنٹے بعد صبح پانچ بجے کے قریب جائے وقوعہ پر پہنچے اور لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ایس ایس پی خیرپور امیر سعود مگسی نے جاری بیان میں کہا کہ واقعہ چار روز قبل پیش آیا تھا اور پولیس نے پہلے ہی دن کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد میں مقتولہ کا ماموں قیصر اور دادا ولی محمد شامل ہیں، جنہیں عدالت میں پیش کرنے کے بعد جیل بھیج دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مقدمہ اے ایس آئی غلام مصطفیٰ کاندہڑو کی مدعیت میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302، 311 اور 114 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں چار افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں قیصر، پھلوان، غلام عباس عرف باجو اور ولی محمد شامل ہیں، جبکہ دیگر افراد کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔

واقعے کی رپورٹنگ کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے والے صحافی زاہد جامڑو نے بتایا کہ لڑکی کو رات تقریباً ایک بجے برادری کے دباؤ پر رشتہ داروں کے حوالے کیا گیا، جس کے بعد گاؤں کے لوگوں نے اجتماعی طور پر قتل کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’لڑکی کے والدین کے علاوہ تقریباً پورا گاؤں اس فیصلے میں شامل تھا‘۔ ان کے مطابق مقتولہ کے والد کراچی میں مزدوری کے سلسلے میں موجود تھے جبکہ والدہ نے بیٹی کو معاف کرنے کی منتیں بھی کیں۔

دوسری جانب خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن شہناز شیخ نے کہا ہے کہ مقدمے میں ان افراد کو بھی شامل کیا جانا چاہیے جنہوں نے لڑکی کو پولیس کے بجائے ملزمان کے حوالے کیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایف آئی آر میں مقتولہ کا نام غلط درج کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے دیگر افراد کی شناخت کی جا رہی ہے تاکہ انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

ادھر سوشل میڈیا پر اس واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور شہریوں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مطالبہ کر رہی ہیں کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں