“سمندر پر ہوں یا آسمان پر” ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 24 گھنٹوں میں گرفتار کرنے کا حکم

اسلام آباد(ویب ڈیسک)اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں متنازع ٹوئٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو پیش نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ دونوں ملزمان کو 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے، چاہے وہ ’’سمندر پر ہوں یا آسمان پر‘‘۔ جبکہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے گرفتاری کے احکامات کو ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا.

جمعے کے روز ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے متنازعہ ٹوئٹ کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی جواد طارق سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جب وارنٹ جاری ہو چکے ہیں تو ان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا۔ جج نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد میں وارنٹ پر عمل نہ ہونا سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ ملزمان پاکستان میں ہوں یا بیرونِ ملک، انہیں گرفتار کر کے پیش کیا جائے اور عدالت وارنٹ کی تعمیل ہر صورت میں چاہتی ہے۔

ڈی آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وارنٹس پر عملدرآمد کیا جائے گا، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اگر احکامات پر عمل نہ ہوا تو توہینِ عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

سماعت کے آغاز پر عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر کے پیش نہ کرنے پر ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد اور ڈائریکٹر ایف آئی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔ دورانِ سماعت این سی سی آئی اے کے پراسیکیوٹر عدالت میں پیش ہوئے، تاہم دونوں ملزمان غیر حاضر رہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمان کہاں ہیں اور انہیں گرفتار کر کے پیش کیوں نہیں کیا گیا۔ جج افضل مجوکہ نے پولیس کے رویے پر اظہارِ ناراضی کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا۔

بعد ازاں عدالت نے ڈی آئی جی آپریشنز اور ایف آئی اے ڈائریکٹر کو صبح 10 بجے عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت میں وقفہ کر دیا۔

سماعت کے بعد جاری تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ جان بوجھ کر گرفتاری سے بچنے کے لیے فرار اختیار کیے ہوئے ہیں۔ تفتیشی افسر کے مطابق ملزمان کی رہائش گاہ پر چھاپے کے باوجود وارنٹس کی تعمیل نہیں ہو سکی۔

عدالت نے پولیس کو وارنٹس کی تعمیل کے لیے مہلت دیتے ہوئے دونوں ملزمان کے دوبارہ وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے اور حکم دیا کہ پولیس کی جانب سے ایس پی رینک سے کم اور این سی سی آئی اے کی جانب سے ڈپٹی ڈائریکٹر سے کم رینک کا افسر اس کارروائی کے لیے تعینات نہ کیا جائے۔

عدالت نے مزید حکم دیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر کے آئندہ سماعت پر وڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے۔

دوسری جانب ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ نے وارنٹِ گرفتاری، حقِ دفاع ختم کرنے اور دیگر عدالتی احکامات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وارنٹِ گرفتاری معطل کیے جائیں، پولیس کو گرفتاری سے روکا جائے اور 15 جنوری کو حقِ دفاع ختم کرنے کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں