ڈاکٹر امرت منظور
مادری زبان انسان کے وجود کا پہلا آئینہ ہے۔ بچہ جب آنکھ کھول کر دنیا کو دیکھتا ہے تو دنیا اس سے کسی عالمی زبان میں نہیں بلکہ ماں کے لہجے میں بات کرتی ہے۔ وہی لہجہ اس کا پہلا فلسفہ ہوتا ہے، پہلا علم، پہلا عشق۔
یہاں زبان محض اظہار نہیں رہتی بلکہ ادراک بن جاتی ہے۔
مارٹن ہائیڈیگر جب زبان کو “وجود کا گھر” کہتا ہے تو دراصل وہ یہی بات بیان کرتا ہے کہ انسان کی ہستی لفظوں کی چھت کے نیچے رہتی ہے۔ اگر وہ چھت اپنی نہ ہو تو وجود میں بھی دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔
فرانز فینن نے بتایا کہ نوآبادیت صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کرتی بلکہ ذہنوں پر بھی قبضہ کر لیتی ہے۔ حاکم کی زبان کو برتر اور مہذب قرار دینا اور مقامی زبان کو کمتر سمجھنا ایک ایسا نفسیاتی ڈھانچہ بناتا ہے جس میں انسان اپنے ہی لہجے اور اپنی ہی زبان سے شرمانے لگتا ہے۔ یہ شرمندگی غلامی کی سب سے خطرناک شکل ہے۔
کتاب ڈی کالونائزنگ دی مائنڈ کے مطابق زبان ثقافتی یادداشت کا خزانہ ہے۔ جب زبان کمزور ہوتی ہے تو قوم کی تاریخ بھی کمزور ہو جاتی ہے۔
جب ہم پاکستان کے پس منظر میں زبان کے سوال کو دیکھتے ہیں تو یہ محض لسانی نہیں بلکہ سیاسی اور اخلاقی سوال بھی رہا ہے۔ جب قومی یکجہتی کے نام پر ایک مرکزی زبان کو فوقیت دینے کی پالیسیاں بنائی گئیں تو اس نے کئی علاقوں میں احساسِ محرومی کو جنم دیا۔ پھر تاریخی طور پر مشرقی پاکستان کی لسانی تحریک نے یہ واضح کر دیا کہ شناخت کو دباکر اتحاد پیدا نہیں کیا جا سکتا۔
سندھ میں بھی سندھی زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ثقافتی بقا اور تاریخی تسلسل کی علامت رہی ہے۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی کا فکر، سچل سرمست کی آواز اور عوامی جدوجہدیں اسی زبان میں زندہ ہیں۔
مادری زبان کا سوال دراصل انصاف کا سوال ہے۔ جو بچہ اپنی زبان میں تعلیم حاصل نہیں کرتا، وہ علم سے دور ہو جاتا ہے یا خود کو کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ اور جو شخص اپنی زبان میں عدالت یا ریاست سے بات نہیں کر سکتا، وہ اپنے ہی وطن میں بے آواز بن جاتا ہے۔
فلسفیانہ طور پر مادری زبان شعور کی آزادی ہے۔
نوآبادیاتی تناظر میں یہ مزاحمت کا مورچہ ہے۔
اور پاکستان کی حقیقت میں یہ وفاقی برابری کی کسوٹی ہے۔
یہی حقیقت ہے کہ قومیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اپنی زبان سے زندہ رہتی ہیں۔ جب مادری زبان کو عزت ملے گی تب ہی انسان اپنی شناخت کے ساتھ بے خوف کھڑا ہو سکے گا۔
زبان کو بچانا دراصل اپنے وجود، اپنی تاریخ اور اپنے مستقبل کو بچانا ہے۔
(آج دنیا بھر میں مادری زبان کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، یہ بلاگ اسی پسمنظر میں لکھا گیا ہے. محترمہ ڈاکٹر امرت منظور کا یہ بلاگ سندھی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے)