کراچی(انڈس ٹربیون) سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے فلیگ شپ کول ٹو فرٹیلائزر (C2F) منصوبے کے تحت تھر کے کوئلے سے یوریا کی پیداوار نہ صرف درآمدی کھاد پر انحصار کم کرے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی اور برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اس منصوبے کو ملک کی غذائی سلامتی، صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس کے دوران فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جہانگیر پیراچہ کی سربراہی میں وفد نے 1.12 ارب ڈالر مالیت کے تھر کول بیسڈ یوریا پراجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری توانائی شہاب انصاری، منیجنگ ڈائریکٹر تھر کول طارق شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
ایف ایف سی حکام کے مطابق منصوبے نے نومبر 2025 میں بینک ایبل فزیبلٹی اسٹڈی (BFS) مکمل کر لی ہے، جس کے بعد اب فرنٹ اینڈ انجینئرنگ ڈیزائن (FEED) اور پراجیکٹ معاہدوں کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ موجودہ ٹائم لائن کے مطابق مالیاتی بندش 2026ء کے آخر سے 2027ء کے درمیان متوقع ہے جبکہ کمرشل آپریشنز جنوری 2031ء میں شروع ہونے کا امکان ہے۔
سالانہ 7 لاکھ 17 ہزار ٹن یوریا کی پیداوار
ایف ایف سی کے مطابق منصوبہ سالانہ 7 لاکھ 17 ہزار ٹن یوریا تیار کرے گا جسے ملکی ضروریات اور برآمدات کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔ یوریا کی سالانہ برآمدات سے 26 کروڑ ڈالر تک آمدنی متوقع ہے۔ منصوبے سے 3,500 سے زائد براہِ راست اور تقریباً 7,000 بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ سالانہ تقریباً 21 لاکھ ٹن کوئلے کے استخراج سے سندھ حکومت کو لگ بھگ 55 لاکھ ڈالر سالانہ رائلٹی حاصل ہوگی۔
جدید ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی اقدامات
منصوبے کے تحت تھر کے کوئلے کو گیس فیکیشن کے ذریعے سنتھیسز گیس میں تبدیل کیا جائے گا، جس کے بعد ڈی سلفرائزیشن اور شفٹ کنورژن کے مراحل سے گزر کر امونیا اور یوریا تیار کی جائے گی۔ فیز ون میں بلک اور بیگ شدہ یوریا کے ساتھ سالانہ 10.4 ہزار ٹن سلفر اور 7 لاکھ 17 ہزار ٹن اضافی کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) کی پیداوار شامل ہے، جسے صنعتی استعمال میں لایا جائے گا۔ فیز ٹو میں یوریا کی پیداواری صلاحیت میں توسیع اور گرین امونیا کی پائلٹ سطح پر تیاری شامل ہوگی۔
ایف ایف سی کے مطابق ماحولیاتی تحفظ کے لیے 5 کروڑ ڈالر سے زائد مختص کیے گئے ہیں، جن میں NOx اور SOx کنٹرول سسٹمز، PM2.5 ذرات کا کنٹرول، ریورس اوسموسس کے ذریعے زیرو لیکوئڈ ڈسچارج، سیوریج ٹریٹمنٹ، بارش کے پانی کا ذخیرہ اور ویسٹ ٹو ویلیو حکمت عملی شامل ہے۔
حکومت سندھ کی معاونت
وزیراعلیٰ سندھ نے یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت مکھّی فراش سے 12 کیوسک پانی کی فراہمی، پلانٹ سائٹ اور اسلام کوٹ میں ملازمین کی رہائشی کالونی کے لیے زمین کی الاٹمنٹ سمیت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار صنعتی ترقی اور سخت ماحولیاتی ضوابط کی پابندی منصوبے کی تکمیل تک اولین ترجیح رہے گی۔
تھر کے ماحولیات پر ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق اگرچہ جدید ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی کنٹرول سسٹمز منصوبے کا حصہ ہیں، تاہم کوئلے کو بطور ایندھن استعمال کرنے سے بعض ممکنہ اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں:
فضائی آلودگی: کوئلے کی گیس فیکیشن اور جلاؤ کے عمل سے کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈز اور سلفر آکسائیڈز کا اخراج بڑھ سکتا ہے، جو مقامی فضائی معیار کو متاثر کر سکتا ہے۔
پانی کے وسائل پر دباؤ: صنعتی عمل کے لیے پانی کی بڑی مقدار درکار ہوگی، جس سے تھر جیسے خشک علاقے میں زیرِ زمین پانی کی سطح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
زمین کی ساخت میں تبدیلی: کوئلے کے استخراج اور صنعتی سرگرمیوں سے مقامی زمین اور حیاتیاتی تنوع متاثر ہو سکتا ہے۔
کاربن فٹ پرنٹ میں اضافہ: اگرچہ اضافی CO₂ کو صنعتی استعمال میں لانے کا منصوبہ ہے، تاہم مجموعی طور پر کوئلے پر مبنی صنعت گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ منصوبے کی کامیابی کا انحصار سخت ماحولیاتی نگرانی، شفاف رپورٹنگ اور عالمی ماحولیاتی معیارات کی مکمل پاسداری پر ہوگا تاکہ تھر کے قدرتی ماحول اور مقامی آبادی کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔