سندھ، پیپلز پارٹی اور سندھو دیش

عاجز جمالی
سندھ میں سندھو دیش کا نعرہ جی ایم سید نے لگایا تھا۔ جی ایم سید وہ شخصیت تھے جو قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھی اور سندھ مسلم لیگ کے صدر رہے۔ جی ایم سید نے ہی سندھ اسمبلی میں قراردادِ پاکستان پیش کی تھی۔

بعد ازاں پاکستان سے بیزار ہوکر جی ایم سید نے علحدگی کا نعرہ لگایا اور سندھو دیش بنانے کا اعلان کیا۔ چونکہ 1971 میں بنگلا دیش الگ ہو چکا تھا، اس کے بعد جی ایم سید نے سندھو دیش کا نعرہ دیا۔ جی ایم سید اپنی سیاست میں پنجاب مخالف رہے اور کہتے تھے کہ پنجاب نے پاکستان پر قبضہ کیا ہے۔ وہ مرتے دم تک اپنے سندھو دیش کے نعرے پر قائم رہے۔

سندھ میں جب مہاجر قومی موومنٹ بنی تو جی ایم سید نے ابتدائی دنوں میں ایم کیو ایم کی حمایت کی تھی اور سندھ یونیورسٹی میں الطاف حسین کو خطاب کروایا تھا۔ جی ایم سید کا یہ خیال تھا کہ سندھی اور مہاجر سندھ کے مستقل باشندے ہیں، ان کے مفادات سندھ کے ساتھ وابستہ ہیں، اس لیے ان دونوں اکائیوں کا پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اتحاد لازمی ہے۔

ایم کیو ایم کے بانی شروع میں اس خیال سے متفق تھے، لیکن بعد میں ایم کیو ایم اقتدار میں آکر پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ کی اتحادی بن گئی۔ اس کے بعد بھی سندھو دیش کی حامی جیئے سندھ قومی محاذ (جسقم) اور ایم کیو ایم کے درمیان متعدد بار اتحاد ہوئے۔ جسقم کے چیئرمین بشیر خان قریشی کے دور میں جسقم اور ایم کیو ایم نے مل کر کالا باغ ڈیم کے خلاف کراچی میں مظاہرہ کیا تھا، جس میں ایم کیو ایم کی مرکزی قیادت بھی شریک تھی۔

اس طرح سندھو دیش کی حامی جماعت بھی اس خیال سے ایم کیو ایم کو قریب لانا چاہتی تھی کہ سندھی اور اردو بولنے والوں کا اتحاد قائم ہو سکے۔ سندھ میں جسقم واحد قوم پرست جماعت ہے جو سرِعام سندھو دیش کی بات کرتی ہے، جبکہ دیگر قوم پرست جماعتیں وفاقی فریم میں رہ کر سیاست کرتی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی روزِ اول سے پاکستان کی سیاست کی بات کرتی ہے۔ پیپلز پارٹی کا وجود ہی پنجاب میں ڈالا گیا تھا۔ سندھ میں ذوالفقار علی بھٹو اور جی ایم سید ایک دوسرے کے سب سے بڑے مخالف رہے اور تب سے اب تک پیپلز پارٹی اور جیئے سندھ ایک دوسرے کی مخالف جماعتیں ہیں۔

سندھ کی وہ قوم پرست جماعتیں جو سندھو دیش کی حامی تو نہیں ہیں لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف سیاست کرتی ہیں، ان میں سندھ ترقی پسند پارٹی، سندھ یونائیٹڈ پارٹی، قومی عوامی تحریک، عوامی تحریک اور جیئے سندھ محاذ شامل ہیں۔ ان جماعتوں نے سندھ کے دائرے میں رہتے ہوئے سندھ کے حقوق کے لیے برسوں سے جدوجہد جاری رکھی ہے۔

ان سب جماعتوں کے نظریات الگ الگ ہیں، لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف سب سے بڑی اسٹریٹ پاور قوم پرست جماعتیں ہیں، جن سے بارہا سندھ حکومت کا ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے۔

اب ایم کیو ایم یہاں ہمیشہ یہ غلطی کرتی ہے کہ پیپلز پارٹی کو سندھو دیش کی حامی کہتی ہے۔ یہ محض سیاسی نعرے کے طور پر کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ خود بھی جانتی ہے کہ پیپلز پارٹی قوم پرست جماعت نہیں ہے۔ ایم کیو ایم یہ بات پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو باور کروانے کے لیے کہتی ہے تاکہ پیپلز پارٹی کو صرف ایک سندھی جماعت ثابت کیا جا سکے۔

سندھ میں اقتداری سیاست پر پیپلز پارٹی کا غلبہ ہے۔ اب تک دوسری کوئی جماعت ایسی نہیں بن سکی جو اقتدار کی سیاست میں اسے پیچھے دھکیل سکے۔ سندھ میں مستقل مزاجی کے ساتھ اقتداری سیاست کرنے والی جماعت صرف پیر پگارا کی مسلم لیگ فنکشنل ہے، جو بارہا ایم کیو ایم کی اتحادی بھی رہی ہے۔ فنکشنل لیگ کی سیاست بھی ایم کیو ایم کی طرح اسٹیبلشمنٹ پر دارومدار رکھتی ہے۔

اس پورے ماحول میں سندھ ایک الگ حقیقت ہے۔ ایم کیو ایم ہر سندھی کو یا تو پیپلز پارٹی کا حامی سمجھتی ہے یا سندھو دیش کا۔ حقیقت میں ہر سندھی نہ پیپلز پارٹی کا حامی ہے اور نہ سندھو دیش کا، لیکن ہر سندھی فطری طور پر سندھ وطن کا حامی ہے۔

سندھ کے اندر سندھیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ سندھ کے عوام نے ہر دور میں سندھ کے خلاف کسی بھی فیصلے کی بھرپور مزاحمت کی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو بھی سندھیوں نے ایک سندھی کی پھانسی کے طور پر لیا۔ تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) کی تحریک ہو یا جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے خلاف جدوجہد، سندھیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

ماضی قریب میں کالا باغ ڈیم کے خلاف جدوجہد تاریخ کا حصہ ہے۔ جنرل پرویز مشرف جیسا طاقتور آرمی چیف بھی کالا باغ ڈیم نہیں بنوا سکا۔

گزشتہ برس کینالوں کے معاملے کو لے لیں۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر مملکت کسی حد تک آمادگی ظاہر کر چکے تھے، لیکن سندھ کے اجتماعی شعور نے اس فیصلے کو مسترد کردیا۔ ببرلو بائے پاس کے دھرنے پر بغیر کسی جماعتی فرق کے تمام سندھی جمع ہوئے تھے اور پیپلز پارٹی کو بھی واضح موقف اختیار کرنا پڑا۔

پنجاب میں کینالوں کی تعمیر کے معاملے پر جب سندھ متحد ہوا تو اسٹیبلشمنٹ اور پنجاب کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ سندھی، سندھ کی خاطر متحد ہوتے ہیں، نہ کہ سندھو دیش یا پیپلز پارٹی کی خاطر۔

سندھ، پیپلز پارٹی نہیں ہے اور نہ پیپلز پارٹی سندھ ہے۔ بالکل اسی طرح سندھو دیش بھی سندھ نہیں ہے۔

جب سندھ کی تقسیم، نئے صوبے بنانے یا کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات کی جاتی ہے تو اسے سندھ پر ضرب سمجھا جاتا ہے۔ ایسے موقع پر سندھیوں اور پیپلز پارٹی کا موقف ایک ہو جاتا ہے کیونکہ معاملہ جماعتی سیاست سے بڑھ کر سندھ کی وحدت کا بن جاتا ہے۔

سندھ کی مزاحمت کی تاریخ گواہ ہے کہ اگر پیپلز پارٹی بھی سندھ کے خلاف کوئی فیصلہ کرے گی تو سندھ کا اجتماعی شعور اسے قبول نہیں کرے گا۔

سندھ کی وحدانیت اور اجتماعی مفاد کے خلاف نسل پرستانہ سیاست سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ سندھی اجتماعی طور پر سندھ دھرتی سے محبت کرتے ہیں اور اسے ماں کا درجہ دیتے ہیں۔

بھلا ماں کے خلاف کسی بھی حرکت پر کوئی خاموش رہ سکتا ہے؟

اپنا تبصرہ لکھیں