اسلام آباد(ویب ڈیسک) کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) سمیت صحافتی آزادی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے 17 عالمی اداروں نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک مشترکہ خط لکھ کر ملک میں صحافتی آزادی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری اقدامات کرتے ہوئے صحافیوں کے تحفظ سے متعلق آئینی اور عالمی ذمہ داریاں پوری کرے۔

اداروں کے مشترکہ خط میں کہا گیا ہے کہ حالیہ قانونی اور ادارہ جاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں پر حملوں کے مقدمات میں احتساب یقینی بنانے میں ناکامی نے میڈیا سے وابستہ افراد کے لیے ماحول کو مزید مخاصمانہ بنا دیا ہے۔ خط کے مطابق ملک میں آزاد صحافت کے لیے حالات تیزی سے مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔
سی پی جے اور دیگر تنظیموں کا کہنا ہے کہ نومبر 2025 میں ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد پاکستان میں صحافتی آزادی کی صورتحال نمایاں طور پر خراب ہوئی۔ اس ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد عدالتی نگرانی اور احتساب کمزور ہوا ہے، جس کا براہ راست اثر میڈیا پر حملوں سے متعلق مقدمات پر پڑا۔ اداروں کے مطابق یہ اقدامات صحافیوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے بجائے آزاد صحافت کے لیے غیر یقینی اور پابندیوں سے بھرپور ماحول پیدا کر رہے ہیں۔
خط میں حکومتِ پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ صحافیوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیا جائے، جن میں صحافی سہراب برکت کی فوری رہائی بھی شامل ہے، جو اپنی صحافتی رپورٹنگ کے سلسلے میں نوے دن سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں۔
سی پی جے اور دیگر دستخط کنندگان نے زور دیا ہے کہ اگر پاکستان میں جمہوری اقدار اور اظہارِ رائے کی آزادی کو برقرار رکھنا ہے تو صحافیوں کے تحفظ، آزاد میڈیا اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔