لاہور (انڈس ٹربیون) ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی جانب سے جاری فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) مبینہ طور پر مقابلوں کی ایک دانستہ پالیسی پر عمل پیرا ہے، جو متعدد کیسز میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کا سبب بن رہی ہے اور صوبے میں قانون کی حکمرانی اور آئینی ضمانتوں کو کمزور کر رہی ہے۔
ایچ آر سی پی کے چیئرمین اسد اقبال بٹ کے مطابق ذرائع ابلاغ میں شائع رپورٹس کی بنیاد پر کمیشن نے 2025 کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران کم از کم 670 سی سی ڈی مقابلوں کو دستاویزی شکل دی، جن میں 924 ملزمان ہلاک ہوئے جبکہ اسی عرصے میں صرف دو پولیس اہلکار جان سے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہلاکتوں کا یہ شدید عدم توازن—یعنی اوسطاً روزانہ دو سے زائد جان لیوا مقابلے—اور مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے انداز میں مماثلت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ محض انفرادی بے ضابطگیاں نہیں بلکہ ایک منظم ادارہ جاتی طرزِ عمل ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان ہلاکتوں کی فوری طور پر اعلیٰ سطح کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔
قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کا الزام
فیکٹ فائنڈنگ مشن کے مطابق ملکی قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کی منظم خلاف ورزی کی گئی۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ تشدد اور حراستی اموات (روک تھام و سزا) ایکٹ 2022 کے تحت ہر حراستی موت کی تحقیقات قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی نگرانی میں ہونا لازم ہے، تاہم زیرِ جائزہ کیسز میں اس طریقہ کار پر عمل درآمد کے شواہد نہیں ملے۔
مزید برآں ضابطہ فوجداری کی دفعات 174 تا 176 کے تحت لازم مجسٹریٹ انکوائری بھی نہیں کرائی گئی۔ ایک زیرِ سماعت پٹیشن میں عدالت کو خود وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کو تحقیقات کا حکم دینا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت، سی سی ڈی اور پولیس حکام نے مشن کی جانب سے ملاقات کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا، جسے کمیشن نے شفافیت کے فقدان اور احتساب سے گریز کی علامت قرار دیا۔
متاثرہ خاندانوں میں خوف کا ماحول
مشن نے متاثرین کے اہل خانہ میں پائے جانے والے خوف اور دباؤ کی فضا کی بھی نشاندہی کی۔ ایک خاندان نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں نے فوری تدفین کے لیے دباؤ ڈالا اور قانونی چارہ جوئی کی صورت میں دیگر رشتہ داروں کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی۔ رپورٹ کے مطابق اس نوعیت کی دھمکیاں خود ایک مجرمانہ فعل ہیں اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے اصولوں سے عدم مطابقت
ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ سی سی ڈی کی کارروائیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے طاقت اور آتشیں اسلحہ کے استعمال سے متعلق اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں، جن کے تحت مہلک طاقت کا استعمال صرف اسی وقت جائز ہے جب وہ ناگزیر اور متناسب ہو۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سی سی ڈی کی پریس ریلیز اور ایف آئی آرز میں تقریباً یکساں بیانیہ—ملزمان کی جانب سے پہلے فائرنگ اور پولیس کی جوابی کارروائی—تقریباً ہر کیس میں دہرایا گیا، جو ایک ترتیب دیے گئے مؤقف کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
سفارشات
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ جامع قانونی حفاظتی اقدامات اور آزاد نگرانی کے نظام کے قیام تک صوبے بھر میں پولیس مقابلوں پر فوری پابندی عائد کی جائے۔ مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی نگرانی میں تمام مقابلوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کرے، ایک آزاد سولین پولیس نگرانی کمیشن قائم کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ فراہم کیا جائے۔
ایچ آر سی پی کے مطابق پائیدار امن اور عوامی تحفظ صرف اسی صورت ممکن ہے جب تفتیش، استغاثہ اور عدالتی احتساب کے عمل کو مضبوط بنایا جائے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے۔