کراچی( ویب ڈیسک)انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف بلوچستان نے کراچی یونیورسٹی کے پانچ طلبہ سمیت سات بلوچ طلبہ کی مبینہ جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام فوری طور پر ان کی موجودگی سے آگاہ کریں، ان کی سلامتی یقینی بنائیں اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق مجاز عدالت میں پیش کیا جائے۔
ایچ آر سی بی کے جاری کردہ بیان کے مطابق 5 اگست کی رات تقریباً 2 بجے کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں واقع ایک رہائشی فلیٹ پر مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور رینجرز اہلکاروں نے چھاپہ مارا، جہاں سے کراچی یونیورسٹی کے پانچ بلوچ طلبہ کو حراست میں لے جایا گیا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران طلبہ کو تشدد اور ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ان کا سامان بھی اپنے ساتھ لے جایا گیا۔ ادارے کے مطابق واقعے کے بعد سے طلبہ کی موجودگی کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔
بیان کے مطابق لاپتا ہونے والے طلبہ میں جنرل ہسٹری کے طالب علم اظہر بلوچ (ساکن گوادر)، بی ایس اکنامکس کے طالب علم غوث بخش بلوچ (ساکن گوادر)، انوائرمنٹل سائنس کے طالب علم شہزاد بلوچ (ساکن گوادر)، بی ایس فلسفہ کے طالب علم انیس بلوچ (ساکن نوشکی) اور بی ایس پولیٹیکل سائنس کے طالب علم وسیم بلوچ (ساکن قلات) شامل ہیں۔
ایچ آر سی بی نے کہا کہ یہ واقعہ اس سے قبل دو دیگر بلوچ طلبہ کی مبینہ گمشدگیوں کے بعد پیش آیا ہے۔ ان میں ایم فل کے طالب علم خلیل بلوچ، جنہیں مبینہ طور پر کراچی یونیورسٹی کے احاطے سے تحویل میں لیا گیا، جبکہ زبیر بلوچ، جو ڈگری کالج حب سے بی ایس کیمسٹری کے گریجویٹ ہیں، انہیں مبینہ طور پر فورتھ شیڈول کی پیشی سے واپس گھر پہنچنے کے بعد حراست میں لیا گیا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف بلوچستان نے ان تمام مبینہ جبری گمشدگیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی ادارے فوری طور پر طلبہ کی گمشدگی سے متعلق وضاحت کریں، ان کی بحفاظت بازیابی یقینی بنائیں اور آئین و قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں۔