حب چوکی(ویب ڈیسک) بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما سمی دین بلوچ کے مطابق گزشتہ رات تقریباً 11:30 بجے حب چوکی بلوچستان میں پولیس اہلکاروں-جن میں وردی اور سادہ لباس میں ملبوس افراد شامل تھے-نے ایک گھر میں زبردستی گھس کر خواتین پر مبینہ تشدد کیا اور تمام اہلِ خانہ کو ایک کمرے میں بند کرنے کے بعد 15 سالہ نسرین کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اہلِ خانہ کے مطابق تاحال نسرین کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی کہ انہیں کہاں اور کیوں منتقل کیا گیا.
یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر شدید ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے ساتھ اب خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو اغوا کرنے کے واقعات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ماہ جبین بلوچ گزشتہ پانچ ماہ سے لاپتہ ہیں، اور اب نسرین جیسی ایک اور کم عمر بچی کو اٹھا لیا جانا “ریاستی بربریت کی بلند ترین سطح” کی نشاندہی کرتا ہے.
سمی دین بلوچ کے مطابق بلوچستان کو ایسے خطے میں تبدیل کیا جا رہا ہے جہاں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں معمول بن چکی ہیں.
انہوں نے کہا کہ مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ جاری ہے، قانون، انصاف اور شہری تحفظ عملاً موجود نہیں رہے۔ گمشدہ افراد کے لواحقین انصاف کے لیے سڑکوں پر دھرنے دینے پر مجبور ہیں.
سمی دین کے مطابق بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، مبینہ ریاستی تشدد اور خواتین و بچوں کے اغوا کے بڑھتے واقعات نے انسانی حقوق کے اداروں اور سماجی حلقوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے.
نسرین کو مبینہ طور پر حراست میں لینے کے متعلق ریاستی حکام کی جانب سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا.