ایران: ریاستی ڈھانچہ،عبوری قیادت اور لاریجانی کا ابھرتا کردار

ڈاکٹر احمد علی میمن
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک بار پھر ہلچل کا شکار ہے۔ ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد طاقت کا توازن بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ تہران کے ایوانوں میں سوال گردش کر رہا ہے کہ اب قیادت کس کے ہاتھ میں ہو گی اور ملک کس سمت جائے گا؟ انہی سوالوں کے بیچ علی لاریجانی کا نام سب سے نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔

ایران کا نظام عام جمہوری ڈھانچے سے مختلف ہے۔ یہاں اصل طاقت کا محور سپریم لیڈر کا منصب ہے۔ فوج، عدلیہ، خارجہ پالیسی اور حساس ادارے اسی مرکز کے گرد گھومتے ہیں۔ خامنہ ای کی غیر موجودگی محض ایک شخصیت کا خلا نہیں بلکہ پورے ریاستی ڈھانچے کے لیے ایک آزمائش ہے۔ اطلاعات ہیں کہ عبوری قیادت کے لیے ایک کونسل قائم کی جا رہی ہے تاکہ نظام کا تسلسل برقرار رہے۔ اس عبوری بندوبست میں علی لاریجانی کو مرکزی کردار دیا جا رہا ہے۔

علی لاریجانی ایرانی سیاست کا نیا چہرہ نہیں۔ وہ پارلیمنٹ کے اسپیکر رہ چکے ہیں، جوہری مذاکرات کی قیادت کر چکے ہیں اور اس وقت سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ہیں۔ ایک ایسا منصب جو دفاعی اور جوہری پالیسی میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ انہیں خامنہ ای کا قریبی ساتھی اور نظام کا قابلِ اعتماد ستون سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیادت کے بحران میں ان کی طرف نظریں اٹھ رہی ہیں۔

جوہری پروگرام ایران کی قومی سیاست کا سب سے حساس موضوع ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایران اسے پُرامن مقاصد کے لیے توانائی کا منصوبہ قرار دیتا ہے۔ لاریجانی اس بحث کے مرکزی کردار رہے ہیں۔ ماضی میں انہوں نے یورپی پیشکشوں کو ”موتی کے بدلے ٹافی“ قرار دے کر یہ واضح کیا تھا کہ ایران اپنی ٹیکنالوجی آسانی سے نہیں چھوڑے گا۔ تاہم حالیہ بیانات میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ کی تشویش صرف ہتھیاروں تک محدود ہے تو مسئلہ بات چیت سے حل ہو سکتا ہے۔ یہ طرزِ فکر انہیں مکمل سخت گیر نہیں بلکہ عملیت پسند رہنما ظاہر کرتا ہے۔

لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران میں احتجاجی مظاہروں کی لہر اٹھی، جس پر سخت کریک ڈاؤن کیا گیا۔ امریکہ نے علی لاریجانی پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ احتجاج کو دبانے میں پیش پیش تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہزاروں ہلاکتوں کا دعویٰ کیا۔ لاریجانی کا کہنا تھا کہ عوامی مطالبات اپنی جگہ، مگر ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے والوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ اس مؤقف نے انہیں مغرب کی نظر میں متنازع مگر ریاستی حلقوں میں مضبوط بنا دیا۔

خارجہ محاذ پر بھی لاریجانی سرگرم رہے ہیں۔ روس کے ساتھ قریبی روابط اور صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران مغربی دباؤ کا مقابلہ متبادل اتحادوں کے ذریعے کرنا چاہتا ہے۔ چین کے ساتھ طویل المدتی تعاون معاہدہ بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ لاریجانی کو ان تعلقات کا معمار سمجھا جاتا ہے۔

داخلی سطح پر ایران کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ پابندیوں، مہنگائی اور بے روزگاری نے عوامی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد ایران کئی بحرانوں سے گزرا، مگر موجودہ حالات زیادہ پیچیدہ ہیں کیونکہ بیرونی دباؤ اور داخلی مسائل ایک ساتھ موجود ہیں۔

ایسے میں علی لاریجانی کے سامنے تین بڑے امتحان ہیں:

اوّل، عالمی دباؤ کو کم کرنا اور جوہری مسئلے پر کوئی قابلِ قبول راستہ نکالنا۔

دوئم، معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اپنانا۔

سوئم، داخلی اتحاد برقرار رکھنا اور عوامی بے چینی کو کم کرنا۔

سوال یہ ہے کہ کیا لاریجانی صرف عبوری کردار ادا کریں گے یا وہ ایران کی سیاست کے مستقل مرکز بن جائیں گے؟ کیا وہ سخت مؤقف برقرار رکھیں گے یا سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں گے؟ ان کے پاس تجربہ، روابط اور ریاستی اعتماد موجود ہے، مگر حالات غیر معمولی ہیں۔

ایران اس وقت ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ تصادم اور مزید تنہائی کی طرف جاتا ہے، جبکہ دوسرا راستہ تدریجی سفارت کاری اور داخلی استحکام کی طرف۔ علی لاریجانی کا کردار طے کرے گا کہ ایران کس سمت قدم بڑھاتا ہے۔

وقت گواہ ہے کہ ایرانی سیاست میں شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں، مگر نظام اپنی بقا کے لیے نئے راستے تلاش کر لیتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ لاریجانی اس نئے باب میں محض ایک عبوری منتظم ثابت ہوتے ہیں یا ایران کے طاقت ور مرکز کے طور پر تاریخ میں جگہ بناتے ہیں۔ آنے والے دن نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں