اسلام آباد(ويب ڈیسک) عالمی یومِ خواتین کے موقع پر نکالی جانے والی ریلی سے قبل اسلام آباد پولیس نے خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں معروف سماجی کارکن فرزانہ باری بھی شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 نافذ ہونے کے باعث پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کارکنوں کو حراست میں لیا۔ اس دفعہ کے تحت کسی مخصوص علاقے میں محدود مدت کے لیے چار یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق خواتین کارکنان کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف-6 میں واقع سپر مارکیٹ کے علاقے سے حراست میں لیا گیا جہاں وہ ریلی کے آغاز کے لیے جمع ہو رہی تھیں۔
دوسری جانب عورت مارچ اسلام آباد نے اپنے سرکاری انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مارچ کے منتظمین اور رضاکاروں کو پُرامن احتجاج کے انعقاد پر پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی انتظامیہ نے لال مسجد سے وابستہ ام حسن کو “حیا مارچ” کے نام سے جوابی احتجاج نہ کرنے کے لیے قائل کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس کے لیے یہ شرط رکھی گئی کہ عورت مارچ کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے اسی شرط پر عمل کرتے ہوئے عورت مارچ کی ریلی کو بھی روک دیا، جبکہ شہر میں دفعہ 144 پہلے ہی نافذ تھی۔
ادھر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بھی اس کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے اسلام آباد پولیس سے عورت مارچ کے منتظمین اور شرکا کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ عالمی یومِ خواتین کے موقع پر اظہارِ رائے اور اجتماع پاکستانی خواتین کا جائز حق ہے اور حکام کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔
کمیشن نے مزید کہا کہ امن و امان کے نام پر اس طرح کے اقدامات قابلِ افسوس ہیں۔
اسلام آباد میں عورت مارچ سے قبل کارکنان کی گرفتاریوں اور ریلی پر پابندی کے معاملے میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
یاد رہے کہ عورت مارچ اسلام آباد کی نمائندہ خواتین نے ہفتہ کے روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس سال کی مہم کا موضوع “فیمینسٹ آئین” قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال مارچ کے ذریعے آئینی اور سماجی سطح پر خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔
پریس کانفرنس کے دوران رہنماؤں نے خطے کی صورتحال، خصوصاً ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے حقوق کے نام پر ایران کے خلاف جنگ مسلط کرنے کی کوششیں دراصل سامراجی مفادات اور معاشی مقاصد سے جڑی ہوئی ہیں۔
انہوں نے اپنے مطالبات میں حدود آرڈیننس کے خاتمے کے ساتھ ساتھ آئین کی 26ویں اور 27ویں ترامیم واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔