تہران: تیل کی تنصیبات پر حملے، تیزابی بارش خطرناک ہو سکتا ہے: ماہرین

تہران(ویب ڈیسک) ایران کے سرکاری حکام نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے رات گئے ایرانی دارالحکومت تہران اور اس کے نواح میں تیل کی پانچ تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق نیشنل ایرانی آئل پروڈکٹس ڈسٹری بیوشن کمپنی کے سربراہ کرامت ویس کرمی نے بتایا کہ گزشتہ شب تہران اور صوبہ البرز میں تیل کے چار ڈپوز اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کے ایک مرکز پر فضائی حملے کیے گئے۔

ان کے مطابق حملوں میں چار افراد جان سے گئے جن میں تیل کے ٹینکرز کے دو ڈرائیور بھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تنصیبات کو نقصان پہنچا تاہم آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

ایرانی ہلالِ احمر نے خبردار کیا ہے کہ دھماکوں کے نتیجے میں فضا میں بڑی مقدار میں زہریلے ہائیڈرو کاربن مرکبات، گندھک اور نائٹروجن آکسائیڈز خارج ہوئے ہیں۔ ادارے کے مطابق اگر بارش ہوئی تو پانی تیزابی ہو سکتا ہے جس سے جلد اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ماحولیاتی حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور سانس کی بیماریوں سے بچنے کے لیے گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کے وزیر دفاع مارٹن فِسٹر نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران پر حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت کسی ملک پر حملہ صرف دفاعی ضرورت یا عالمی ادارے کی اجازت سے کیا جا سکتا ہے۔

ادھر ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں امریکی سفارت خانے کے باہر بھی علی الصبح ایک زوردار دھماکہ ہوا جس سے معمولی نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ممکنہ ملزمان کی تلاش کی جا رہی ہے۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ برطانیہ مشرق وسطیٰ میں طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پر غور کر رہا ہے، تاہم امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ جیتنے کے لیے برطانوی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے اور عالمی برادری اس تنازع کے پھیلنے کے خدشات پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں