ڈاکٹر احمد علی میمن
دنیا کی سیاست ایک ایسے مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں پرانے نظریات اور نئے حقائق کے درمیان ایک خاموش کشمکش جاری ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ایک عرصے تک یہ تاثر غالب رہا کہ عالمی سیاست میں نظریاتی مقابلے کا زمانہ ختم ہو چکا ہے اور اب دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں معیشت، تجارت اور عالمی تعاون ہی بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد بنیں گے۔ اسی تصور کو امریکی مفکر فرانسس فوکویاما نے اپنی مشہور کتاب تاریخ کا خاتمہ اور آخری انسان میں پیش کیا تھا۔ ان کے مطابق انسانی سیاسی ارتقا بالآخر جمہوری نظام اور آزاد معیشت کے ماڈل پر آ کر ٹھہر جائے گا اور نظریاتی کشمکش کی بڑی جنگیں تاریخ کا حصہ بن جائیں گی۔
اس نظریے نے 1990 کی دہائی میں عالمی سیاست کو سمجھنے کے لیے ایک فکری خاکہ فراہم کیا۔ اس وقت ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دنیا واقعی ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کی سیاست کے بجائے تعاون، تجارت اور عالمی اداروں کا کردار زیادہ اہم ہو جائے گا۔ لیکن تین دہائیوں کے بعد عالمی منظرنامہ اس تصور سے خاصا مختلف دکھائی دیتا ہے۔
آج عالمی سیاست میں ایک بار پھر طاقت، مفادات اور جغرافیائی مقابلے کی سیاست نمایاں ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا واقعی نظریات کا خاتمہ ہو رہا ہے یا دنیا صرف ایک نئے عالمی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
بیسویں صدی کی آخری دہائی میں عالمی سیاست میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور سوویت یونین کے انہدام کے بعد عالمی سیاست میں ایک بنیادی تبدیلی آئی۔ اس واقعے کے بعد امریکہ عالمی نظام کی سب سے طاقتور قوت کے طور پر ابھرا اور اس کی قیادت میں ایک ایسا عالمی ڈھانچہ تشکیل پایا جسے عام طور پر آزاد عالمی نظم کہا جاتا ہے۔
اس نظام کی بنیاد آزاد تجارت، جمہوری اقدار، انسانی حقوق اور عالمی تعاون پر رکھی گئی۔ اس دور میں اقوام متحدہ، عالمی تجارتی تنظیم اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جیسے اداروں کو عالمی نظم و نسق، عالمی استحکام اور ترقی کے ضامن کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
یہ خیال عام تھا کہ اگر ممالک اقتصادی طور پر ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے تو جنگوں کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ عالمی تجارت کے پھیلاؤ، سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے اس سوچ کو مزید تقویت دی۔ کئی مبصرین کے نزدیک یہ ایک ایسا دور تھا جب عالمی سیاست نسبتاً مستحکم اور متوازن دکھائی دیتی تھی۔
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ عالمی سیاست کی سمت بدلنے لگی۔ اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے تک پہنچتے پہنچتے یہ واضح ہو گیا کہ طاقت اور مفادات کی سیاست اب بھی عالمی نظام میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ چین کی معاشی اور عسکری طاقت نے عالمی توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔ چین نے عالمی تجارت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے میدان میں غیر معمولی پیش رفت کی جس کے نتیجے میں وہ ایک بڑی عالمی قوت کے طور پر سامنے آیا۔
اسی دوران روس کی جارحانہ خارجہ پالیسی نے عالمی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال روس۔یوکرین جنگ ہے جس نے دنیا کو یہ یاد دلایا کہ سرحدی مفادات اور عسکری طاقت اب بھی عالمی سیاست کے اہم محرک ہیں۔
دوسری طرف امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت نے عالمی نظام کو ایک نئے اسٹریٹجک مقابلے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یہ مقابلہ صرف عسکری میدان تک محدود نہیں بلکہ معیشت، ٹیکنالوجی، توانائی اور سمندری راستوں تک پھیلا ہوا ہے۔
اسی دوران مغربی دنیا کے اندر بھی سیاسی رجحانات میں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ کئی ممالک میں قوم پرستانہ سیاست کے ابھار نے عالمی تعاون کے تصور کو چیلنج کیا۔
برطانیہ کا یورپی یونین سے خروج (بریگزٹ) بھی اسی رجحان کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس فیصلے نے ظاہر کیا کہ عالمی انضمام کے باوجود قومی مفادات اور شناخت کی سیاست اب بھی بہت طاقتور ہے۔
اسی طرح یورپ اور دنیا کے دیگر خطوں میں بھی قوم پرستی اور ثقافتی شناخت کے سوالات سیاست کے مرکز میں آ رہے ہیں۔ اس رجحان نے عالمی تعاون کے اس تصور کو کمزور کیا ہے جو سرد جنگ کے بعد کے دور میں بہت مضبوط دکھائی دیتا تھا۔
ان تمام تبدیلیوں کے باوجود یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ نظریات کا دور مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ درحقیقت آج کی دنیا میں مختلف نظریاتی رجحانات بیک وقت موجود ہیں۔
ایک طرف جمہوریت، انسانی حقوق اور آزاد معیشت پر مبنی مغربی تصور موجود ہے۔ دوسری طرف چین جیسے ممالک کا ایسا ترقیاتی ماڈل ہے جس میں ریاست کو مرکزی کردار حاصل ہے اور معاشی ترقی کو مضبوط حکومتی نظم کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔
اسی کے ساتھ دنیا کے کئی خطوں میں مذہبی، ثقافتی اور قومی شناخت پر مبنی سیاست بھی ابھر رہی ہے۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سیاست نظریات سے خالی نہیں بلکہ مختلف نظریاتی راستوں کے درمیان ایک نئے مقابلے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
عالمی سیاست میں ایک اور اہم تبدیلی اطلاعات اور بیانیہ سازی کی بڑھتی ہوئی اہمیت ہے۔ اب ریاستیں صرف عسکری یا معاشی طاقت کے ذریعے ہی اثر و رسوخ قائم نہیں کرتیں بلکہ میڈیا، ثقافتی اثر اور سفارتی بیانیوں کے ذریعے بھی عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اس طرح اطلاعات اور بیانیے بھی عالمی سیاست کے ایک نئے میدان کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ بہت سے ماہرین کے نزدیک موجودہ دور میں طاقت کا ایک اہم ذریعہ یہ بھی ہے کہ کون سا ملک یا قوت عالمی رائے عامہ کو کس حد تک متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
موجودہ رجحانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں دنیا ایک ایسے نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے جس میں کئی بڑی طاقتیں مختلف خطوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کریں گی۔ اس صورت حال کو بعض ماہرین کثیر مرکزی عالمی نظام قرار دیتے ہیں۔
اس نئے نظام میں معیشت، ٹیکنالوجی، عسکری طاقت اور اطلاعاتی اثر و رسوخ سب اہم کردار ادا کریں گے۔ عالمی سیاست کا مستقبل اس بات پر بھی منحصر ہوگا کہ بڑی طاقتیں تعاون کو ترجیح دیتی ہیں یا مقابلے کو۔
ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ دنیا نظریات کے مکمل خاتمے کی طرف نہیں بلکہ ایک نئے جغرافیائی سیاسی دور کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سرد جنگ کے بعد قائم ہونے والا آزاد عالمی نظم اب پہلے جیسی طاقت اور اثر نہیں رکھتا، لیکن نظریاتی کشمکش اب بھی عالمی سیاست کا حصہ ہے۔
ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں دنیا ایک ایسے عالمی نظام کی طرف بڑھے جس میں نظریات، طاقت اور جغرافیائی مفادات تینوں مل کر عالمی سیاست کی سمت متعین کریں۔ یہی کشمکش شاید آنے والے زمانے کی بین الاقوامی سیاست کی سب سے نمایاں خصوصیت بنے گی۔