کراچی(ویب ڈیسک) پاکستان کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آلودگی پاکستان کے مغربی علاقوں کی فضائی کیفیت کو متاثر کر سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی موجودہ صورتحال کے باعث چلنے والی ہوائیں آلودہ ذرات کو پاکستان کے مغربی حصوں کی طرف لے جا سکتی ہیں، جس سے وہاں کی ہوا مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
بیان کے مطابق ایران، جو پاکستان کا مغربی ہمسایہ ہے، 28 فروری کو ہونے والے حملوں کے بعد سے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کی صورتحال میں ہے۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے۔
7 مارچ کو تہران میں تیل صاف کرنے والی تنصیبات اور ایندھن کے ڈپو پر بڑے فضائی حملوں کے بعد دارالحکومت زہریلے دھوئیں کی لپیٹ میں آ گیا۔ اتوار کے روز شہر میں سیاہ اور تیل آلود بارش کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
تہران میں تیل کی تنصیبات سے اٹھنے والے گھنے سیاہ دھوئیں نے کئی علاقوں میں سورج کی روشنی کو مدھم کر دیا اور فضا میں زہریلے مادوں کی مقدار میں اضافہ دیکھا گیا۔
تہران میں موجود امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے نمائندے فریڈرک پلیتگن نے تہران کے شران آئل ڈپو کی صورتحال کو قیامت خیز منظر سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی فضا میں سانس لینا انتہائی زہریلا محسوس ہو رہا تھا۔
دوسری جانب ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے بھی شہریوں کو صحت کے سنگین خطرات سے خبردار کیا ہے۔ ادارے کے مطابق فضا میں خارج ہونے والی زہریلی گیسیں، خصوصاً سلفر اور نائٹروجن آکسائیڈ، جلد اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ کسانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موجودہ موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی فصلوں کی دیکھ بھال کریں۔