زمین کی درجہ حرارت دوگنی، ماہرین کا 2028 تک مزید 1.5 ڈگری گرمی بڑھنے کا انتباہ

برلن(ویب ڈیسک) دنیا بھر کے ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ زمین کا درجہ حرارت اب ماضی کے مقابلے میں تقریباً دو گنا تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں موسمیاتی تباہیاں توقع سے کہیں پہلے سامنے آ سکتی ہیں۔

سائنسی خبر رساں ادارے نیوسائنٹسٹ ڈاٹ کام کے مطابق جرمنی کی پوٹسڈیم یونیورسٹی کے ماہر اسٹیفن راہمزٹورف اور امریکی شماریات دان گرانٹ فوسٹر کی تحقیق کے مطابق 2013-14 سے پہلے زمین کا درجہ حرارت ہر دہائی میں تقریباً 0.18 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ رہا تھا، تاہم اب یہ رفتار بڑھ کر تقریباً 0.36 ڈگری سینٹی گریڈ فی دہائی ہو گئی ہے۔

پانچ مختلف عالمی درجہ حرارت کے اعداد و شمار کے تجزیے سے یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو انسانیت 2028 تک درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کی اس حد کو عبور کر سکتی ہے جسے پیرس معاہدے کے تحت روکنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں ہر دسواں حصہ بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے شدید موسم، ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات اور خطرناک موسمی حدوں کے عبور ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران ریکارڈ گرمی کے بعد 2023 میں سائنس دانوں کے درمیان اس بات پر بحث شروع ہوئی کہ آیا عالمی حدت کی رفتار واقعی بڑھ رہی ہے یا نہیں۔ اس دوران ال نینو جیسے قدرتی موسمی عوامل نے 2023 اور 2024 میں اضافی گرمی پیدا کی جس کی وجہ سے اصل رجحان کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔

تاہم نئی تحقیق میں 98 فیصد اعتماد کے ساتھ یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔

ماہرین کے مطابق سمندری درجہ حرارت بڑھنے سے گرم پانی کے مرجانی چٹانوں کے نظام تیزی سے تباہ ہو رہے ہیں۔ اگر درجہ حرارت میں اضافہ 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا تو گرین لینڈ اور مغربی انٹارکٹکا کی برف کے مستقل پگھلنے اور ایمیزون کے جنگلات کے خشک ہونے جیسے بڑے ماحولیاتی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ حالیہ برسوں میں درجہ حرارت کی رفتار بڑھنے کی ایک وجہ 2020 میں بحری جہازوں کے اخراج میں سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات بھی ہیں۔ یہ مادہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ تھا مگر فضا میں باریک ذرات بنا کر سورج کی روشنی کو جزوی طور پر روک دیتا تھا جس سے زمین کو ٹھنڈک ملتی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی میں کمی مستقبل میں بھی جاری رہے گی جس سے وقتی طور پر درجہ حرارت میں اضافے کا اثر مزید نمایاں ہو سکتا ہے، تاہم آئندہ برسوں میں اس کی رفتار کم بھی ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں