امریکا میں کی گئی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر دو سال تک روزانہ ملٹی وٹامن لیا جائے تو اس سے حیاتیاتی عمر کے بعض اشاریوں کی رفتار قدرے سست ہو سکتی ہے، تاہم اس کا اثر بہت محدود ہے اور صحت پر اس کے عملی فائدے ابھی واضح نہیں۔
عمر کو عموماً دو طریقوں سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک تقویمی عمر جو کسی انسان کی پیدائش سے گزرے ہوئے برسوں کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ دوسری حیاتیاتی عمر ہے جو جسم کی حقیقی حالت اور بڑھاپے کی رفتار کو ظاہر کرتی ہے۔ حیاتیاتی عمر کا اندازہ عموماً ڈی این اے میں کیمیائی تبدیلیوں کے نمونوں سے لگایا جاتا ہے جو وقت کے ساتھ جمع ہوتے رہتے ہیں اور جینیاتی ہدایات کے کام کرنے کے طریقے کو متاثر کرتے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حیاتیاتی عمر بڑھنے کی رفتار کو کم کیا جا سکے تو بڑھاپے سے جڑی بیماریوں کو روکا یا کم کیا جا سکتا ہے اور انسان زیادہ عرصے تک صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔
یہ تحقیق امریکا میں کی گئی جس میں مٹھائی بنانے والی کمپنی مارس کی جانب سے مالی معاونت بھی شامل تھی۔ تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ روزانہ ملٹی وٹامن لینے سے حیاتیاتی عمر کے بعض اشاریوں کی رفتار کم ہوتی دکھائی دی، لیکن اس کا صحت پر حقیقی اثر کیا ہوگا، اس بارے میں ابھی واضح شواہد موجود نہیں۔
تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر ہارورڈ سیسو کے مطابق اس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ تمام بزرگ افراد لازماً ملٹی وٹامن استعمال کرنا شروع کر دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ “ہمارے دو بڑے طبی تجربات میں ملٹی وٹامن لینے کے کسی نمایاں خطرے کے شواہد نہیں ملے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس سے کون سے افراد کو فائدہ ہوتا ہے اور کس حد تک۔”
یہ تحقیق طبی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہوئی۔ اس میں تقریباً 70 سال کی اوسط عمر کے 958 صحت مند افراد کو چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ کچھ شرکا کو روزانہ کوکو کے عرق کے ساتھ ملٹی وٹامن دیا گیا، کچھ کو صرف ملٹی وٹامن، کچھ کو صرف کوکو عرق جبکہ بعض کو دونوں کی جگہ نقلی گولیاں دی گئیں۔
محققین نے شرکا کے خون کے نمونے تحقیق کے آغاز، ایک سال اور دو سال بعد لیے اور ڈی این اے میں کیمیائی تبدیلیوں پر مبنی پانچ پیمانوں کے ذریعے حیاتیاتی عمر میں تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔
نتائج کے مطابق جن افراد نے روزانہ ملٹی وٹامن لیا ان میں پانچ میں سے دو پیمانوں پر حیاتیاتی عمر بڑھنے کی رفتار نسبتاً کم دیکھی گئی۔ مجموعی طور پر اس کمی کا مطلب دو سال میں تقریباً چار ماہ کم حیاتیاتی بڑھاپا تھا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جن افراد میں تحقیق کے آغاز پر حیاتیاتی بڑھاپا نسبتاً تیز تھا، ان میں ملٹی وٹامن کا اثر قدرے زیادہ نظر آیا۔ ماہرین کے مطابق ممکن ہے کہ ایسے افراد میں غذائی کمی زیادہ ہو جس کی وجہ سے یہ فرق ظاہر ہوا ہو۔
دوسری جانب تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوکو کے عرق نے حیاتیاتی عمر کے کسی بھی پیمانے پر کوئی خاص اثر نہیں ڈالا۔
اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ نتائج بہت محدود ہیں اور یہ ابھی واضح نہیں کہ حیاتیاتی عمر کے ان پیمانوں میں معمولی تبدیلیاں عملی زندگی میں صحت پر کس حد تک اثر ڈالتی ہیں۔
لندن کے امپیریل کالیج لندن ے وابستہ ماہر ڈاکٹرمارکو ڈی اینتونیو کا کہنا ہے کہ صرف ملٹی وٹامن لینے سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑتا۔ ان کے مطابق صحت مند غذا اور طرز زندگی ہی عمر بڑھنے کے عمل کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی طرح میڈرڈ کی آٹونومس یونیورسٹی آف میڈرڈ کی پروفیسر ڈاکٹر پائلر گولر کاسٹلن کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد یہ نہیں بتاتے کہ ملٹی وٹامن لینے سے اموات یا بڑی بیماریوں کے خطرے میں کمی آتی ہے۔ ان کے مطابق بہتر یہی ہے کہ لوگ پھلوں اور سبزیوں سے بھرپور متوازن غذا اختیار کریں اور غیر ضروری غذائی سپلیمنٹس پر پیسہ خرچ نہ کریں۔