واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران تقریباً 140 سے زائد امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق سامنے آئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے واقف دو ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ دس دنوں کے دوران ایران کے ساتھ جاری لڑائی میں تقریباً 150 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل پینٹاگون کی جانب سے صرف آٹھ فوجیوں کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔
رائٹرز کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ایک بیان میں کہا کہ ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے آغاز سے اب تک مسلسل حملوں کے دوران تقریباً 140 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے اکثریت کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔
ترجمان کے مطابق زخمی ہونے والے 108 فوجی علاج کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں، جبکہ آٹھ شدید زخمی اہلکاروں کو اعلیٰ ترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
پینٹاگون کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ زخمی ہونے والے فوجیوں کو کس نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں اور آیا ان میں دھماکوں کے باعث ہونے والی دماغی چوٹیں بھی شامل ہیں یا نہیں۔
ادھر ایران نے 28 فروری سے شروع ہونے والے اس تنازع کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کیے ہیں۔ ایرانی حملوں میں خلیجی عرب ممالک میں موجود سفارتی مشنز، ہوٹلوں اور ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ تیل کی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ایرانی حملوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے کیونکہ امریکی فوج ایران کے ہتھیاروں کے ذخائر اور میزائل لانچر مقامات کو نشانہ بنا رہی ہے۔
اس حوالے سے امریکی مسلح افواج کے سربراہ جنرل ڈین کین نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے مزاحمت ضرور کی جا رہی ہے لیکن یہ جنگ امریکی توقعات سے زیادہ مشکل ثابت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ’’وہ لڑ رہے ہیں اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں، لیکن وہ ہماری توقع سے زیادہ طاقتور حریف ثابت نہیں ہوئے۔‘‘