دبئی(ويب ڈیسک) آبنائے ہرمز میں بدھ کے روز نامعلوم سمت سے داغے گئے گولوں کے نتیجے میں تین بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث ایک جہاز میں آگ لگ گئی اور اس کے بیشتر عملے کو جہاز چھوڑنا پڑا۔
بحری سلامتی کے ذرائع کے مطابق تھائی لینڈ کے پرچم بردار مال بردار جہاز مئیوری ناری کو عمان کے شمال میں تقریباً گیارہ بحری میل کے فاصلے پر نشانہ بنایا گیا جس سے جہاز کو نقصان پہنچا۔
برطانیہ کے بحری تجارتی آپریشنز ادارے نے بعد میں بتایا کہ جہاز میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور اس واقعے سے ماحولیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ضروری عملہ اب بھی جہاز پر موجود ہے۔
ادھر جاپان کے پرچم بردار کنٹینر بردار جہاز ون میجسٹی کو بھی نامعلوم گولے سے معمولی نقصان پہنچا۔ یہ واقعہ متحدہ عرب امارات کے شہر راس الخیمہ سے تقریباً پچیس بحری میل شمال مغرب میں پیش آیا۔ ذرائع کے مطابق جہاز کا عملہ محفوظ ہے اور جہاز محفوظ لنگرگاہ کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔
اسی دوران ایک تیسرا مال بردار جہاز بھی دبئی کے شمال مغرب میں تقریباً پچاس میل کے فاصلے پر نامعلوم گولے کی زد میں آیا۔ بحری خطرات کے انتظام سے وابستہ ادارے کے مطابق مارشل جزائر کے پرچم بردار جہاز اسٹار گوینتھ کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا تاہم عملہ محفوظ رہا۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کی ایک اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً بیس فیصد توانائی کی سپلائی گزرتی ہے۔ ایران سے جاری کشیدگی کے آغاز کے بعد سے اس راستے سے گزرنے والی بحری آمد و رفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
تازہ واقعات کے بعد ایران تنازع کے آغاز سے اب تک حملوں کا نشانہ بننے والے جہازوں کی تعداد کم از کم چودہ ہو گئی ہے۔