ڈاکٹر احمد علی میمن
جدید دنیا کی معیشت ایک بنیادی اصول پر قائم ہے: توانائی اور تجارت کی آزادانہ ترسیل۔ تیل، گیس اور دیگر تجارتی اشیاء کی بلا رکاوٹ فراہمی صرف چند ممالک کا مفاد نہیں بلکہ پوری دنیا کی ضرورت ہے۔ اسی لیے عالمی اقتصادی اور تجارتی حلقوں میں یہ اصول تسلیم کیا جاتا ہے کہ دنیا تک توانائی کی آزادانہ رسائی تمام انسانیت کا مشترکہ حق ہے۔ جب توانائی کا یہ بہاؤ متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف عالمی منڈیوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ صنعتوں، تجارت اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی تک پہنچ جاتے ہیں۔
موجودہ بین الاقوامی کشیدگی، جس میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی شامل ہے، نے ایک مرتبہ پھر دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں سے ایک، آبنائے ہرمز، کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ خلیج فارس کو بحرِ عمان کے ذریعے کھلے سمندروں سے جوڑنے والی یہ تنگ مگر انتہائی اہم آبی گذرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کا بنیادی دروازہ تصور کی جاتی ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے آبنائے ہرمز اپنے تنگ ترین مقام پر تقریباً انتالیس کلومیٹر چوڑی ہے، لیکن اس مختصر فاصلے سے دنیا کے تقریباً بیس فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا ایک بڑا حصہ روزانہ گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اسے دنیا کا سب سے اہم توانائیاتی سمندری گزرگاہ قرار دیتے ہیں۔ خلیجی خطے کے بڑے توانائی پیدا کرنے والے ممالک، جن میں سعودی عرب، عراق، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات اور ایران شامل ہیں، اپنی توانائی کی برآمدات اسی راستے کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں۔
یہ سمندری راستہ صرف خلیجی خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی تجارت کے ایک وسیع جغرافیائی نظام کا حصہ ہے۔ خلیجی بندرگاہوں سے نکلنے والا تیل اور دیگر سامان پہلے بحیرۂ عرب کے ذریعے بحرِ ہند میں داخل ہوتا ہے۔ وہاں سے مشرقی ایشیا جانے والی بحری تجارت عموماً آبنائے ملاکا کے راستے چین، جاپان اور جنوبی کوریا کی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اسی طرح یورپ کی جانب جانے والا تیل اور سامان بحیرۂ احمر سے گزرتے ہوئے نہرِ سویز کے ذریعے بحیرۂ روم تک پہنچتا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو آبنائے ہرمز دراصل عالمی سمندری تجارت کے پورے نظام کا مرکزی دروازہ ہے۔
حالیہ کشیدگی کے دوران سمندری نقل و حرکت میں غیر معمولی بے یقینی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ بعض بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ایک تجارتی جہاز نے آبنائے ہرمز کے قریب پہنچتے ہوئے اپنا خودکار شناختی نظام بند کر دیا اور اگلے روز ابو ظہبی کے قریب دوبارہ ظاہر ہوا۔ بظاہر یہ ایک تکنیکی واقعہ محسوس ہوتا ہے، لیکن درحقیقت یہ اس بڑھتی ہوئی تشویش کی علامت ہے جو اس خطے میں جہاز رانی کرنے والی کمپنیوں اور عملے کو لاحق ہے۔
شپنگ انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کے مطابق ہزاروں تجارتی جہاز اس وقت خلیجی پانیوں میں تاخیر یا احتیاطی انتظار کی کیفیت میں ہیں۔ ان میں خام تیل لے جانے والے ٹینکرز، مائع قدرتی گیس کے جہاز، کنٹینر بردار جہاز اور دیگر تجارتی بحری جہاز شامل ہیں جو دنیا بھر کے لیے ضروری سامان لے کر سفر کرتے ہیں۔
جدید عالمی سپلائی چین انتہائی منظم نظام پر چلتی ہے، جہاں ہر جہاز، ہر بندرگاہ اور ہر راستے کا وقت طے ہوتا ہے۔ اگر اس نظام کے کسی اہم نقطے پر رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات پورے عالمی تجارتی ڈھانچے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
اسی پس منظر میں حالیہ تنازعے کا ایک اہم پہلو ایران کی ممکنہ حکمت عملی کے حوالے سے بھی زیرِ بحث آ رہا ہے۔ بعض بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی پالیسی کو ایک ایسی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جسے بعض حلقے آخری حد تک دباؤ کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔ اس کے تحت خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے گرد کشیدگی پیدا کر کے عالمی سطح پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا سکتی ہے تاکہ بالآخر امریکہ پر جنگ بندی کے لیے سفارتی دباؤ پیدا ہو۔
تاہم اس قسم کی حکمت عملی کے اثرات صرف حریف ممالک تک محدود نہیں رہتے۔ عالمی سمندری تجارت ایک مشترکہ نظام ہے جس میں درجنوں ممالک، سینکڑوں بندرگاہیں اور لاکھوں بحری کارکن شامل ہیں۔ جب کسی اہم سمندری گزرگاہ میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات ایشیا کی صنعتوں، یورپ کی منڈیوں اور افریقہ کی تجارت تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، جہاز رانی کے بیمہ کے اخراجات میں اضافہ اور سپلائی چین میں تاخیر جیسے مسائل فوری طور پر سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔
یہ بحران دراصل عالمی باہمی انحصار کی ایک بڑی حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ آج کی دنیا میں معاشی استحکام صرف قومی پالیسیوں پر منحصر نہیں بلکہ عالمی راستوں، بندرگاہوں اور تجارتی نظام پر بھی منحصر ہے۔ آبنائے ہرمز اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ ایک نسبتاً تنگ جغرافیائی راستہ بھی پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسی لیے بین الاقوامی قانون اور عالمی سفارت کاری میں ہمیشہ اس بات پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ عالمی سمندری راستے کھلے اور محفوظ رہنے چاہئیں۔ سمندر کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں بلکہ عالمی تجارت کے مشترکہ راستے ہیں۔ جب یہ راستے جنگ اور عسکری کشیدگی کا میدان بن جاتے ہیں تو اس کے اثرات سرحدوں سے بہت آگے تک پہنچ جاتے ہیں۔
آج کی صورتحال ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ توانائی اور تجارت کی آزادانہ ترسیل صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی استحکام کا بنیادی ستون ہے۔ اگر اہم سمندری گزرگاہیں غیر محفوظ ہو جائیں تو اس کا اثر صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی معیشت کے پورے نظام پر پڑتا ہے۔
بالآخر مسئلہ یہ نہیں کہ کسی تنازعے میں کون سا فریق درست ہے اور کون غلط۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کے بنیادی سمندری راستے محفوظ رہیں گے یا نہیں۔ کیونکہ توانائی کی آزادانہ ترسیل اور عالمی تجارت کی روانی کسی ایک طاقت یا اتحاد کا حق نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ ضرورت ہے۔
آبنائے ہرمز کا موجودہ بحران ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ عالمی معیشت بعض اوقات چند حساس جغرافیائی راستوں پر منحصر ہوتی ہے۔ جب یہ راستے کشیدگی کا شکار ہو جائیں تو پوری دنیا اس کے اثرات محسوس کرتی ہے۔ اس لیے عالمی برادری کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ اختلافات اور تنازعات کے باوجود سمندری راستوں کی سلامتی اور توانائی کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنایا جائے۔
اگر سمندری راستے محفوظ اور کھلے رہیں تو عالمی تجارت کا پہیہ مسلسل چلتا رہتا ہے، لیکن اگر یہی راستے جنگ اور کشیدگی کی زد میں آ جائیں تو اس کے اثرات دنیا کے ہر خطے تک پہنچتے ہیں۔ یہی حقیقت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کبھی کبھی ایک تنگ سمندری گزرگاہ بھی عالمی معیشت اور بین الاقوامی سیاست کی سمت متعین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔