تہران/واشنگٹن(ویب ڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ عالمی سطح پر انتہائی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی کے تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے دوران باقی مدت کے لیے اس اہم بحری راستے کو کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے رواں ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی شروع کرے گا، جس کے جواب میں ایران نے فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے ردعمل میں اس گزرگاہ کو کئی ہفتوں تک عملی طور پر بند کر دیا تھا۔ آبنائے ہرمز کو دنیا کی مصروف ترین تیل بردار بحری راہداریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے جو عالمی آمدورفت کے لیے ایک مثبت پیشرفت ہے۔
ماہرین کے مطابق اس پیشرفت سے عالمی تیل کی ترسیل اور خطے میں کشیدگی میں کمی آنے کا امکان ہے، جبکہ بین الاقوامی تجارت پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔