کراچی(انڈس ٹربیون) سندھ کے دارالحکومت کراچی میں اتوار کے روز امریکی قونصل خانے کے قریب احتجاج کے دوران مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک اور بتیس زخمی ہو گئے۔
ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد کراچی میں سینکڑوں شیعا کارکن مارچ کرتے ہوئے امریکی قونصليٹ کی طرف بڑھے، عینی شاہدین کے مطابق مشتعل مظاہرین نے قونصليٹ پر حملہ آور ہو کر توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کی کوشش کی، جس پر قانون نافذ کرانے والے اداروں کے اہلکاروں نے مظاہرین پر آنسو گیس اور ہوائی فائرنگ کی جس کے بعد علاقہ میدان جنگ بن گیا_
سول اسپتال کراچی کے ٹراما سینٹر انتظامیہ کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد کو گولیوں کے زخم آئے۔ سول اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے تمام افراد مرد تھے۔
یہ احتجاج ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تہران میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاکت کے بعد سامنے آیا۔
امدادی کارکنان کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔
پولیس سرجن کے مطابق ابتدائی طور پر چھ لاشیں سول اسپتال کراچی منتقل کی گئیں، جبکہ دو زخمی پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر لے جایا گیا۔ پولیس اہلکاروں کو سخت اور کند اشیا سے چوٹیں آئیں، جبکہ دو مظاہرین کو آتشیں اسلحے کے زخم تھے۔
سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لانجر نے صورتحال کی فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس اعظم خان سے تفصیلات مانگیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور حساس تنصیبات کی سکیورٹی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستے مقرر کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مکمل الرٹ رہنے کی ہدایت بھی کی، ساتھ ہی خبردار کیا کہ امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
کیماڑی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس امجد احمد شیخ نے حساس مقامات پر سکیورٹی سخت کرنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی۔
ٹریفک پولیس کے مطابق سلطان آباد سے مائی کولاچی روڈ تک دونوں اطراف کی سڑک احتجاج کے باعث بند کر دی گئی۔ جناح پل سے آنے والی ٹریفک کو آئی آئی چندریگر روڈ کی جانب موڑا گیا، بوٹ بیسن سے آنے والی گاڑیوں کو مائی کولاچی پھاٹک سے واپس بھیجا گیا جبکہ پی آئی ڈی سی سے آنے والی ٹریفک کو پارک کٹ سے موڑ دیا گیا۔
ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متبادل راستوں کے لیے ہیلپ لائن پر رابطہ کریں اور کہا کہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے نفری تعینات ہے۔