جمہوریت ڈھونگ بن چکی، صوبوں کے اختیارات سلب کیے جا رہے ہیں: سید زین شاہ

سکھر(انڈس ٹربیون) سکھر میں صحافیوں کے اعزاز میں دی گئی افطار پارٹی کے موقع پر نیوز کانفرنس کرتے ہوئے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے نائب صدر اور سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ نے خطے اور ملک کی مجموعی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ایس یو پی کے رہنما آغا قمر مشوانی، رمضان برڑو، عیدن جاگیرانی، ماجد ڈنور ودیگر بھی موجود تھے.

انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگی حالات انتہائی افسوسناک ہیں، علاقائی تنازعات کو بات چیت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے حل کرنے کے بجائے میزائلوں کے استعمال سے تنازعات کو مزید بھڑکایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی آزادی اور خودمختاری پر حملہ افسوسناک ہے جبکہ پاک افغان کشیدگی بھی تشویشناک رخ اختیار کر چکی ہے۔ ان کے بقول مشرقِ وسطیٰ سے برصغیر تک جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

سید زین شاہ نے کہا کہ پاکستان کے پڑوسی ممالک افغانستان، ایران اور بھارت کے ساتھ تعلقات خراب ہیں اور کسی بھی پڑوسی ملک سے مؤثر تجارتی روابط قائم نہیں رہے۔ انہوں نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے نہ سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی عوام کو، اور ملک کو طویل المدتی پرائی جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا۔

انتخابی عمل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آٹھ فروری کے انتخابات محض ایک ڈھونگ تھے اور دو ہزار بائیس کے بعد کی گئی قانون سازی اور منظور شدہ قوانین نے نام نہاد جمہوریت کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ایس آئی ایف سی کے ذریعے ملکیتوں کے فیصلے مسلط کیے جا رہے ہیں، عدالتوں کو محدود کیا گیا ہے اور پیکا قوانین کے ذریعے میڈیا کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جہاں اپوزیشن پر سیاست کے لیے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کی گئی ہے، جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حالات انتہائی تشویشناک ہیں اور ریاستی رٹ چند شہروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کی بنیادیں ہلا دی گئی ہیں اور ملک میں عملی طور پر جوڈیشل مارشل لا نافذ ہے۔

سید زین شاہ نے دعویٰ کیا کہ ملک میں جمہوریت ایک ڈھونگ بن چکی ہے، نظام آمرانہ رخ اختیار کر رہا ہے، صدر اور وزیر اعظم کٹھ پتلی بن گئے ہیں اور اسمبلیاں ربڑ اسٹیمپ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے حقیقی جمہوری اور وفاقی نظام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ رضاکارانہ طور پر پاکستان میں شامل ہوا تھا مگر اس کے وسائل زبردستی وفاق کے قبضے میں لیے جا رہے ہیں، صوبوں سے جنرل سیلز ٹیکس وصولی کا حق بھی چھینا گیا ہے۔

انہوں نے غیرقانونی پورٹ اینڈ لینڈ اتھارٹیز کے قیام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے سندھ کا پورا ساحلی علاقہ جبری طور پر وفاق کے کنٹرول میں دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں نے پاکستان بنایا ہے، اگر صوبے نہیں رہیں گے تو پاکستان بھی نہیں رہے گا۔

لسانی ہم آہنگی پر بات کرتے ہوئے سید زین شاہ نے کہا کہ اسی کی دہائی میں نسلی فسادات کرائے گئے، سندھی اور اردو بولنے والے دونوں قتل و غارت کی مذمت کرتے ہیں، مگر ایک بار پھر نئے صوبوں کا راگ الاپ کر فسادات کی سازش کی جا رہی ہے، جبکہ انیس سو تہتر کے آئین میں نئے صوبوں کے قیام کا کوئی نکتہ موجود نہیں۔

متنازعہ نہروں کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ سندھ کے لاکھوں افراد نے احتجاجی تحریک چلائی مگر تاحال مشترکہ مفادات کونسل سے اس منصوبے کو رد نہیں کرایا گیا، اور جہلم کے علاقے میں جلال پور کینال پر کام جاری ہے جس کے ذریعے دو لاکھ ایکڑ زمین آباد کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ پرانے کمانڈ ایریا میں پہلے ہی پانی کی انیس فیصد قلت موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اجناس کی قیمتوں کے باعث زراعت تباہ ہو چکی ہے، بڑی کمپنیاں اپنے یونٹس پاکستان سے باہر منتقل کر رہی ہیں، غربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، سندھ میں بتیس فیصد آبادی غربت کا شکار ہے اور ہر تیسرا فرد بنیادی ضروریات سے محروم ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کو کرپشن کے احتساب سے استثنا دیا گیا ہے۔

آخر میں سید زین شاہ نے مطالبہ کیا کہ کوسٹل ڈویلپمنٹ اور پاکستان پورٹ اینڈ لینڈ اتھارٹی سے متعلق قوانین واپس لیے جائیں، موجودہ بوگس نظام ختم کر کے نئے شفاف انتخابات کرائے جائیں کیونکہ ان کے بقول بندوق اور گولیوں سے ملک نہیں چلایا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ لکھیں