بھارت کو یومِ آزادی کی مبارکباد پر خاتون قومپرست رہنما گرفتار، تین روزہ ریمانڈ

نواب شاہ(دی انڈس ٹربیون) ضلع نواب شاہ کے قاضی احمد پولیس نے ریاست کے خلاف بغاوت کے مقدمے میں گرفتار جئے سندھ ناری محاذ کی رہنما صوبیہ جوکھیو عرف آرزو سندھی کو مبینہ طور پر دو روز تک لاپتہ رکھنے کے بعد پیر کو نواب شاہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے انہیں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر ویمن پولیس اسٹیشن نواب شاہ کے حوالے کر دیا۔

آرزو سندھی کے خلاف 15 اگست کو قاضی احمد پولیس اسٹیشن میں ریاست کی مدعیت میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 123-A، 153 اور 505 جبکہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات 6 اور 7 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
فوٹو: سوشل میڈیا

آرزو سندھی کے خلاف 15 اگست کو قاضی احمد پولیس اسٹیشن میں ریاست کی مدعیت میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 123-A، 153 اور 505 جبکہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات 6 اور 7 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ آرزو سندھی نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پاکستان کے خلاف مبینہ نفرت انگیز مواد اور بھارت کے حق میں پوسٹس شائع کیں، جن کے ذریعے لوگوں میں نفرت اور اشتعال پیدا کرنے اور ریاست کے خلاف بغاوت کی کوشش کی گئی۔

جئے سندھ محاذ کے میڈیا سیل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد ہفتے کے روز آرزو سندھی کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

آرزو سندھی نے 15 اگست کو بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر بھارت اور جئے سندھ کے جھنڈوں کی تصاویر پوسٹ کی تھیں اور بھارتی عوام کو آزادی کی مبارکباد دی تھی۔

پیر کو آرزو سندھی کو سخت سکیورٹی میں انسدادِ دہشت گردی عدالت لایا گیا۔ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ قاضی احمد کے رہائشی یحییٰ بھٹی نے انہیں مختلف مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں دی تھیں اور پولیس نے ان کے کہنے پر انہیں مقدمے میں ملوث کیا ہے۔ آرزو سندھی نے کہا کہ ان کے حوصلے بلند ہیں۔

دوسری جانب یحییٰ بھٹی نے ایک ویڈیو بیان میں آرزو سندھی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ قبل شہری مسئلے پر ان کے درمیان اختلاف ہوا تھا، تاہم مقامی شہری رہنماؤں کی مداخلت سے دونوں کے درمیان صلح ہو گئی تھی۔

یحییٰ بھٹی کے مطابق آرزو سندھی کو پولیس نے پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے اور ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔

آرزو سندھی کی گرفتاری پر سندھ کے مختلف قومپرست رہنماؤں اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف ریاست سے بغاوت کے مقدمے اور گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ ان حلقوں نے سندھ حکومت اور نواب شاہ پولیس سے آرزو سندھی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

جئے سندھ محاذ کے مطابق آرزو سندھی پہلی خاتون قومپرست رہنما ہیں جنہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے الزام میں ریاست کے خلاف بغاوت کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں