کراچی (دی انڈس ٹربیون) ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور سندھ کی ممکنہ تقسیم کے خلاف سندھ انٹلیکچوئل فورم کے زیر اہتمام کراچی کے پاک امریکن کلچرل کمپلیکس میں کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں نامور دانشوروں، ادیبوں، صحافیوں اور وکلا نے شرکت کی۔
کانفرنس میں مقررین نے نئے صوبوں کے قیام کی تجاویز کو تاریخی اکائیوں کے وسائل اور معیشت پر زیادہ اختیار حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اگر ایسی کوششیں جاری رہیں تو سندھ کی وحدت کے تحفظ کے لیے سیاسی اور جمہوری مزاحمت کی جائے گی۔
معروف ماہر اقتصادیات قیصر بنگالی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کا مقصد اسلام آباد کو یہ پیغام دینا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے سندھ کی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد کراچی کو وفاقی دارالحکومت بنانے کے فیصلے کے خلاف بھی مزاحمت ہوئی تھی، جبکہ ون یونٹ کے قیام کے وقت سندھ اسمبلی کے 98 ارکان نے اس کی حمایت کی تھی۔
قیصر بنگالی نے کہا کہ ماضی کی سیاسی کمزوریاں سندھ کے لیے سبق ہیں اور صوبے کے اندر ایسے عناصر کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا جو سندھ کے مفادات کے خلاف فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں سندھ کے خلاف ووٹ دینے والے ارکان کا سیاسی اور سماجی سطح پر احتساب ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو میڈیا ہاؤسز سندھ کی تقسیم سے متعلق مہم چلاتے ہیں، ان کے اشتہارات دینے والی کمپنیوں سے بھی سوال کیا جانا چاہیے اور عوام ایسی مہم کی حمایت کرنے والے اداروں کی مصنوعات کے بائیکاٹ پر غور کریں۔
معروف دانشور نصیر میمن نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے نئے یا چھوٹے صوبوں کی بات کرنے سے پہلے یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ موجودہ مسائل کیا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھاری قرضوں اور اربوں ڈالر کے خسارے کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں نئے صوبے بنانے کی بحث سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کے مطابق صوبوں کی تعداد بڑھانے سے ملک کے قرضے ختم نہیں ہوں گے۔
نصیر میمن نے کہا کہ موجودہ سیاسی نظام میں وزیراعظم بھی اپنے اختیارات مکمل طور پر استعمال نہیں کر سکتا اور حکومتوں کو مدت مکمل کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی بجٹ میں صوبوں کے وسائل سے بڑی رقم لی گئی ہے اور دوسری جانب نئے صوبوں کی بات کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق نئے اور چھوٹے صوبوں کے مطالبے کے پیچھے وسائل اور مالی معاملات پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش بھی شامل ہے۔
نصیر میمن نے کہا کہ نگران حکومت کے دور میں کارپوریٹ فارمنگ کے تحت سندھ کی زمینوں کے حوالے سے فیصلے کیے گئے، جبکہ سندھ نے زمین اور پانی کے معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق صوبے کے معدنی وسائل پر بھی نظریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کراچی کو تباہ حال قرار دیا جاتا ہے تو یہ بھی بتایا جائے کہ پاکستان کا کون سا شہر اس وقت مکمل طور پر رہنے کے قابل ہے۔
کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر طاہر حسین نے کہا کہ گزشتہ 40 برس کے دوران سندھ کے حوالے سے مختلف نعرے لگتے رہے، تاہم وقت کے ساتھ وہ ختم ہوگئے۔ ان کے بقول سندھ کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے نعرے کچھ عرصے بعد خود ہی ختم ہوجاتے ہیں، جبکہ سندھ کی بقا کے لیے جمہوریت کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو سیاسی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اردو دانشور نسیمہ زاہد نے کہا کہ وہ اردو بولنے والی ہونے کے باوجود کبھی یہ نہیں چاہیں گی کہ کراچی کو سندھ سے الگ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی سندھ کا حصہ ہے، سندھ ایک ہے اور ایک ہی رہے گا۔ ان کے مطابق سندھ کی تقسیم کے نعرے بے بنیاد ہیں۔
وکیل شازیہ نظامانی نے کہا کہ 1948 کے بعد کراچی کو وفاقی دارالحکومت بنایا گیا، جبکہ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ موجودہ نظام نہیں چل سکتا۔ ان کے بقول مسئلہ نظام کا نہیں بلکہ سیاسی فیصلوں اور طرز حکمرانی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ پاکستان کے قیام سے قبل ایک تاریخی سیاسی اکائی تھا اور پاکستان کے قیام میں سندھ نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق ملکی معیشت کی خرابی میں صوبوں کا کوئی کردار نہیں، کیونکہ اقتصادی فیصلے وفاق کرتا ہے، اس لیے صوبوں کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کانفرنس میں ڈاکٹر محبوب شیخ، شہاب اوستو، بخت جمال شیخ اور دیگر مقررین نے بھی سندھ کی وحدت، جمہوری نظام کے استحکام، صوبائی خودمختاری اور صوبوں کے وسائل پر اختیار کے حق میں اظہار خیال کیا۔