جامشورو(رپورٹ: شریف ابڑو) سندھ یونیورسٹی کے بوائز ہاسٹلز تک مبینہ طور پر اسلحے کی آسان رسائی، طلبہ پر حملے کے ملزمان کی گرفتاری اور سکیورٹی انچارج رفیق بروہی کو ہٹانے کے مطالبے پر طلبہ نے احتجاجی ریلی نکال کر سینٹرل لائبریری چوک پر دھرنا دے دیا۔
طلبہ جدوجہد اتحاد کی جانب سے بوائز ہاسٹل سے سینٹرل لائبریری تک نکالی گئی ریلی میں طلبہ نے شدید نعرے بازی کی۔ بعد ازاں مظاہرین نے سینٹرل لائبریری چوک پر سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کرکے دھرنا دیا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
احتجاجی طلبہ اتحاد کے رہنماؤں بسمل سندھی، نظیر کھوسو، میاں جمال انڑ، آزاد درس، فدا انڑ اور دیگر نے الزام عائد کیا کہ سندھ یونیورسٹی میں پرامن تعلیمی ماحول خراب کرنے میں سکیورٹی انچارج رفیق بروہی کا کردار ہے اور مبینہ طور پر ان کی مدد سے طلبہ پر حملہ کیا گیا۔
مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ حملے کے مقدمے میں نامزد سپاف کے طلبہ پانڈی بروہی، ظفر بروہی، جنید گاڈھی سمیت تقریباً 15 ملزمان کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یونیورسٹی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں تو ہاسٹلز کے اندر اسلحہ کیسے پہنچتا ہے اور اسے کون پہنچاتا ہے، اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
طلبہ رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی میں داخلہ ٹیسٹ کے موقع پر بھی طلبہ گروپوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرکے ماحول خراب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مبینہ طور پر اسلحہ اور جھگڑوں کے کلچر کو فروغ دینے والے عناصر کے خلاف قانونی و انتظامی کارروائی کی جائے۔
طلبہ جدوجہد اتحاد نے مطالبہ کیا کہ سکیورٹی انچارج رفیق بروہی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے اور یونیورسٹی کے اندر لڑائی جھگڑوں میں ملوث عناصر کے خلاف مکمل انتظامی کارروائی کی جائے۔
مظاہرین نے اعلان کیا کہ جب تک رفیق بروہی کو ہٹانے اور طلبہ پر حملے کے ملزمان کی گرفتاری کے مطالبات پر کارروائی نہیں کی جاتی، سینٹرل لائبریری کے سامنے احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔