کراچی میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا احتجاج، بلاول ہاؤس کی جانب مارچ سے روک دیا گیا، درجنوں گرفتار

کراچی(دی انڈس ٹربیون) آل سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز اینڈ ایمپلائیز یونین کی مرکزی کال پر سندھ کے مختلف اضلاع سے آنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز نے پیر کے روز اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے کراچی میں احتجاج کیا اور بلاول ہاؤس کی جانب مارچ کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں تین تلوار کے مقام پر روک دیا۔

پولیس کی جانب سے روکے جانے کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکرز نے تین تلوار پر دھرنا دے دیا، جس کے باعث سڑک پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز کی چیئرپرسن حلیمہ لغاری اور دیگر رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مطالبات کا چارٹر لے کر بلاول ہاؤس کے سامنے پرامن احتجاج کرنا چاہتی تھیں، تاہم پولیس نے انہیں آگے جانے سے روک دیا۔ اس دوران ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ عبداللہ پنہور احتجاجی دھرنے میں پہنچے مگر مذاکرات نہیں ہوسکے۔

مظاہرین کا الزام ہے کہ پولیس نے احتجاج میں شرکت کے لیے مختلف اضلاع سے آنے والی متعدد لیڈی ہیلتھ ورکرز کو گرفتار کیا ہے۔ رہنماؤں کے مطابق پولیس نے سات سے زائد گاڑیوں کو بھی تحویل میں لیا اور 350 سے زیادہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو گرفتار کرکے مختلف مقامات پر منتقل کیا گیا۔

تاہم پولیس کی جانب سے گرفتاریوں کی تعداد اور دیگر الزامات کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

’پروگرام کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی کوشش‘

لیڈی ہیلتھ ورکرز رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کو نجی شعبے کے حوالے کرنے اور اس کا بجٹ بھی نجی کمپنی کو دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

ان کے مطابق لیڈی ہیلتھ ورکرز طویل عرصے سے سروس اسٹرکچر اور ٹائم اسکیل سمیت دیگر مطالبات کی منظوری کا مطالبہ کر رہی ہیں، لیکن ان مطالبات پر پیش رفت کے بجائے پروگرام کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔

حلیمہ لغاری اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے 1994 میں لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام شروع کیا تھا، جس کے ذریعے ہزاروں خواتین کو روزگار ملا اور وہ ملک کے بنیادی صحت کے نظام کا حصہ بنیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز پولیو کے خاتمے کی مہم سمیت بچوں اور ماؤں کی صحت سے متعلق آگاہی اور ویکسینیشن کے لیے گھر گھر خدمات انجام دیتی ہیں۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو سروس اسٹرکچر اور ٹائم اسکیل دیا جائے اور پروگرام کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں