اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے جیل میں قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے 48 گھنٹوں کے اندر ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
تین رکنی بینچ نے منگل کو حکام کو ہدایت کی کہ عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، جہاں ان کے علاج کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔
عدالت نے عمران خان کو اپنے ذاتی معالج اور بہن سے ملاقات کی اجازت دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ عمران خان کے قریبی ساتھی اور سابق معاون خصوصی سید ذوالفقار بخاری نے کہا کہ یہ فیصلہ خوش آئند ہے، تاہم ان کے بقول یہ اقدام پہلے اٹھایا جانا چاہیے تھا تاکہ عمران خان کی بینائی اور مجموعی صحت زیادہ متاثر نہ ہوتی۔
ذوالفقار بخاری نے کہا کہ عمران خان کو اس وقت تک ہسپتال میں رکھا جانا چاہیے جب تک ڈاکٹروں کا بورڈ ان کی صحت کے حوالے سے مکمل اطمینان کا اظہار نہ کرے۔
اس سے قبل گزشتہ ہفتے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان کا طبی معائنہ کیا تھا۔ دستیاب طبی رپورٹ کے مطابق ان میں ہائی بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن تیز ہونے اور بے چینی کی علامات سامنے آئی تھیں۔
طبی ماہرین نے عمران خان کو اخبارات، رسائل، کتابوں اور ٹیلی ویژن تک رسائی دینے کے ساتھ ساتھ اہلِ خانہ اور شریکِ حیات سے ملاقاتوں کے مواقع بڑھانے کی بھی سفارش کی تھی۔
حکومت نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران عمران خان کی اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقاتوں پر مختلف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
73 سالہ عمران خان 2023 سے جیل میں ہیں اور انہیں متعدد مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ ان میں دورانِ وزارتِ عظمیٰ 2018 سے 2022 کے دوران غیر ملکی شخصیات اور حکومتوں سے ملنے والے قیمتی تحائف ”توشہ خانہ” سے متعلق مقدمہ بھی شامل ہے۔