اسلام آباد (دی انڈس ٹربیون) پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے مسلح افواج کے ڈھانچے، کمان اور باہمی رابطہ کاری سے متعلق پاکستان ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کا بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے۔
قومی اسمبلی میں بل وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیا، جس کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کو قانونی بنیاد فراہم کرنے، ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم کرنے اور چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی آپریشنل کمان اور کنٹرول دینے کی شقیں شامل ہیں۔
بل کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز وزیراعظم کے قومی سلامتی، دفاع اور مسلح افواج سے متعلق امور پر پرنسپل ملٹری ایڈوائزر ہوں گے، جبکہ انہیں مسلح افواج کی آپریشنل کمان اور کنٹرول حاصل ہوگا۔
قانون میں کہا گیا ہے کہ جہاں موجودہ قوانین میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا ذکر ہے، وہاں چیف آف ڈیفنس فورسز کے الفاظ شامل کیے جائیں گے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات
بل کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کے درمیان انضمام، آپریشنل ہم آہنگی، رابطہ کاری اور نگرانی کے لیے ضروری اختیارات حاصل ہوں گے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز قومی سلامتی، جنگی تیاری اور دفاعی منصوبہ بندی سے متعلق امور میں بھی کردار ادا کریں گے۔
قانون کے مطابق انہیں مسلح افواج سے متعلق قوانین کے تحت کسی شخص کو ریٹائر کرنے، سروس سے فارغ کرنے، استعفیٰ قبول یا مسترد کرنے، ملازمت سے برطرف کرنے یا سروس میں برقرار رکھنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
چیف آف ڈیفنس فورسز کو کسی شخص کی ریٹائرمنٹ کی عمر یا سروس کی مدت میں نرمی دینے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔
ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم ہوگا
ایکٹ کے تحت مسلح افواج کا ایک مستقل ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم کیا جائے گا۔
اس کا مقصد تینوں مسلح افواج کے درمیان مشترکہ منصوبہ بندی، تربیت، آپریشنل رابطوں اور دفاعی امور میں ہم آہنگی کو مؤثر بنانا ہے۔
قانون کے اہم مقاصد میں قومی سلامتی اور دفاعی امور سے متعلق مشترکہ پالیسی سازی، رابطہ کاری کو مضبوط بنانا اور مسلح افواج کے درمیان آپریشنل تعاون کو مزید مؤثر بنانا شامل ہے۔
حکومت کو قواعد بنانے کا اختیار
بل کے تحت وفاقی حکومت ایکٹ کی دفعات پر عمل درآمد کے لیے قواعد و ضوابط وضع کر سکے گی، جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز ان قواعد کے نفاذ کے لیے احکامات اور ہدایات جاری کر سکیں گے۔
قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ایکٹ پر عمل درآمد میں کوئی مشکل پیش آئے یا اس کی دفعات اور کسی دوسرے قانون کے درمیان تضاد پیدا ہو تو صدرِ مملکت حکم کے ذریعے ایسی مشکل دور کر سکیں گے۔
موجودہ قوانین برقرار رہیں گے
ایکٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مسلح افواج سے متعلق موجودہ قوانین، قواعد، ضوابط اور احکامات اس وقت تک نافذ العمل رہیں گے جب تک وہ نئے قانون سے متصادم نہ ہوں۔
وفاقی کابینہ نے بھی جمعرات کو پاکستان ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کی منظوری دی تھی۔
نئے قانون کے ذریعے تینوں مسلح افواج کے درمیان مشترکہ کمان، آپریشنل ہم آہنگی اور دفاعی منصوبہ بندی کے نظام کو مزید ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے، جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے کردار اور اختیارات کے ساتھ دفاعی ہیڈکوارٹرز کے انتظامی ڈھانچے کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔